باپ کی رہائی کے لیے بچوں کی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بچوں نے اپنے والد کی رہائی کے لیے کوئی بائیس روز سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے عدم توجہی کے باعث اب لانگ مارچ اور خواتین کی علامتی بھوک ہڑتال کے علاوہ بچے تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بچوں میں نثار احمد عمر پانچ سال، میر ہزار خان عمر سات سال، بی بی زر جان عمر نو سال، غلام ربانی عمر بارہ سال اور غلام جیلانی عمر چودہ سال شامل ہیں۔ یہ بچے اپنے والد علی اصغر بنگلزئی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علی اصغر کی بیوی نے منگل کے روز کوئٹہ پریس کلب میں بتایا ہے کہ اس کے شوہر کو کوئی چار سال پہلےسرکاری اہلکار لے گئے تھے جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ نہ اسے عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ علی اصغر کے رشتہ دار نصراللہ نے بتایا ہے کہ چار سال پہلے جب علی اصغر کو اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے تو اس نے خود ان لوگوں سے بات کی تھی اور وہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار تھے۔ چودہ دن کے بعد علی اصغر کو چھوڑ دیا گیا تھا اور اس وقت علی اصغر نے بتایا کہ اسے ایجنسیوں کے اہلکار لے گئے تھے اور اس سے جسٹس نواز مری قتل کیس اور بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے پوچھ گچھ کر رہے تھے کچھ عرصہ بعد علی اصغر کو دوبارہ لے گئے جس کے بعد ان کا علی اصغر سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔ بچوں کی بھوک ہڑتال کا یہ دوسرا مرحلہ ہے پہلے مرحلے میں بچوں نے ایک ماہ تک روزانہ نو گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی جس کے بعد اعلیٰ حکام کی طرف سے یہ تسلی دی گئی کہ بچوں کو ہڑتال سے اٹھا دیا جائے توعلی اصغر کو رہا کر دیا جائے گا لیکن وعدہ وفا نہیں ہوا۔ علی اصغر کی بیوی اور بچوں نے کہا ہے کہ چھ ستمبر کو خواتین لانگ مارچ کریں گی دس ستمبر کو بچے اور خواتین مشہور چوکوں پر علامتی بھوک ہڑتال کریں گے پندرہ ستمبر کو خواتین اور بچے ننگے پاؤں اور ننگے سر مارچ کریں گے اور بیس ستمبر سے بچے تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔ نصراللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کئی بار وعدے کیے اور کیمپ کا دورہ کرنے کا بھی کہا لیکن نہ تو علی اصغر کی رہائی عمل میں آئی ہے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن متحدہ کے رہنماؤں کو کراچی سے اٹھالیا گیا تھا۔ جس پر سیاسی رہنماؤں نے کہا تھا کہ انھیں ایجنسیوں کے اہلکار اٹھا کر لے گیے تھے پہلے مرحلے میں ڈاکٹر امداد اور ان کے ساتھیوں کا رہا کیا گیا اور اب دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر اللہ نذر اور ان کے ساتھیوں کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ بلوچستان سے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کے علاوہ عام آدمیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر اٹھا لیا جاتا ہے جنھیں نہ تو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے گھر والے سالہا سال تک انھیں تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی بھی ادارہ معلومات فرام کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||