فائرنگ پر کتنے افسر معطل کریں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی بیاہ تو ویسے خوشی کے لمحات ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی یہ لمحات غم اور سوگ میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ شادی کی تقریبات میں فائرنگ کی کہانی کتنی پرانی ہے کوئی نہیں جانتا مگر اس فائرنگ کی وجہ سے کراچی میں کئی کہانیوں نے جنم لیا ہے جو ہر چوتھے پانچھویں دن پڑھنے کو مل جاتیں ہیں اور پھر ہر کوئی اس پر افسوس کرتا ہے۔ روشنیوں کے اس شہر میں صرف گزشتہ ایک ماہ میں چار گھروں کے چراغ بجھے گئے ہیں۔ خوشی میں کی گئی فائرنگ کے واقعات میں نہ صرف ایک دولھا، دولھا کا دوست اور دو معصوم بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ انتیس کے قریب لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اتوار کی شب بھی جمشید کوارٹر کے علاقے پٹیل پاڑہ میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی گئی۔ جس میں دو معصوم بچے گیارہ سال رفیق اور اس کے کزن وقاص ہلاک ہوگئے ۔ جمشید کوراٹر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک ملزم مدثر کو حراست میں لے لیا ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ گولی پسٹل میں پھنس گئی تھی جس کو نکالتے ہوئے اچانک گولی چل گئی۔ اس سے قبل تین اگست کو لائینز ایریا میں شادی کے دروان فائرنگ کی گئی جس میں بچوں سمیت چھبیس افراد زخمی ہوگئے مگر اس واقعے کا کوئی بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ پانچ اگست کو کھارادر کے علاقے صرافہ بازار میں شادی سے ایک رات قبل محفل میں فائرنگ کی گئی جس میں دولھا پچیس سالہ محمد عثمان گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شادی بیاہ کےگیتوں کی جگہ آہوں اور سسکیوں نے لے لی۔ محمد عثمان دو بہنوں کا اکلوتہ بھائی تھا۔ واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ قائدآباد میں غوثیہ ہوٹل کے قریب خلدآباد میں نو اگست کو شادی میں ہوائی فائرنگ کی گئی۔ جس کی زد میں آکر دو افراد زخمی ہوگئے۔ جن میں سے عمر رحمان زخموں کی تاب نے لاکر فوت ہوگئے۔ جو دولھا کا دوست تھا۔ سندھ حکومت نے شادی کی تقریبات میں فائرنگ اور پٹاخوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جہاں فائرنگ ہو وہاں موبائیل پہنچ کے متعلقہ شخص کو گرفتار کرے۔ وھ یہ بھی کہے چکے ہیں کہ جہاں بھی فائرنگ ہوگی اس علاقے کا ایس ایچ او اور موبائل افسر ذمہ دار ہوگا۔ سندھ کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی اس سے قبل دور مرتبہ ایسی وارننگ دے چکے ہیں مگر فائرنگ کے واقعات میں کمی نہیں آئی ہے۔ جبکہ اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاھ نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئی بھی افسر معطل نہیں ہوا ہے ۔ پہلے ایسے واقعات مقدمات درج ہوتے تھے مگر اب زیادہ کیے جارہے ہیں اور گرفتاریاں بھی کی جاتی ہیں۔ متعلقہ تھانے کے افسر کی معطلی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں روز فائرنگ ہوتی ہے کتنے افسر معطل کرینگے۔ یہ عملی طور پر نہیں ہوسکتا ہے۔ جبکہ معطلی کے علاوہ بھی کارروائی کا جاسکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||