فوجی عدالت میں اپیل دائر کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں ایک فوجی عدالت میں سزا پانے والے ملزمان اب فوجی عدالت میں ہی اس سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ موت کی سزا پانے والے چوبیس سالہ اخلاص احمد کے وکیل خالد محمود کا کہنا ہے کہ وہ ملٹری کورٹ آف اپیل میں درخواست دائر کر رہے ہیں۔ باقی سات کے خاندان والے بھی اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پاکستان آرمی ایکٹ سیکشن ایک سو تینتیس کے تحت کورٹ مارشل میں سزا پانے کے ساٹھ دن کے اندر اندر اپیل کی جا سکتی ہے۔ کورٹ آف اپیل میں فیصلہ چیف آف دی آرمی سٹاف یا ان کا نامزد کردہ فوجی افسر کرتا ہے۔ صدر پرویز مشرف پر25 دسمبر، سنہ 2003 کو ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی سازش تیار کرنے کی پاداش میں موت اور قید کی سزا پانے والے ایک فوجی کمانڈو سمیت آٹھ افراد کو تئیس اگست کے روز جہلم اور اٹک کی سویلین جیلوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ موت کی سزا پانے والوں کمانڈو نائیک ارشد محمود اور ان کے سویلین ساتھیوں زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور اور اخلاص احمد کو اٹک جیل جبکہ قید کی سزا پانے والوں عدنان خان عرف رانا، امیر سہیل عرف ساجد اور رانا محمد نوید کو جہلم کی جیل میں انتہائی خطرناک قیدیوں کے سیل میں بند کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے رہائشی کمانڈو ارشد ولد حاجی مہربان کا تعلق فوج کے سپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی سے تھا۔ صدر جنرل مشرف بھی فوج کے اسی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ اکثر کمانڈوز کے لیے مخصوص کیموفلاج یونیفارم پہنے نظر آتے ہیں۔ صدر پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے دوسرے افراد میں سے زبیر احمد ولد اللہ دتہ جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں، راشد قریشی ولد انور قریشی راولپنڈی کے علاقے پنڈورا، غلام سرور ولد صفدر بھٹی راولپنڈی اور اخلاص احمد ولد اخلاق احمد کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ سے معلوم ہوا ہے۔ بیس سال قید با مشقت کی سزا پانے والے امیر سہیل ساجد ولد ولی محمد کا تعلق منڈی بہاؤالدین، پچیس سال سزا پانے والے رانا نوید ولد رانا فقیر حسین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی زیڈ ٹی بی ایل کالونی کے بلاک بی/ون کے فلیٹ نمبر بارہ کے رہائشی اور دس سال سزا پانے والے عدنان خان ولد گیلاف خان آفریدی کا تعلق جمرود (پشاور) کے ٹیڈی بازار سے بتایا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہD-31 کے تحت سزائیں سنائی گئی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||