محمد اسلام کون تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے کے جرم میں پھانسی پانے والے شخص محمد اسلام کا تعلق ڈیفنس سروسز گروپ یعنی ’ڈی ایس جی، سے تھا اور انہوں نے کمانڈو کورس بھی کیا ہوا تھا۔ یہ بات ان کے سسر نے صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد کے شہر ٹھل سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئی بتائی۔ محمد اسلام پر الزام تھا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر چودہ دسمبر سن دوہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ہونے والے بم حملے میں ملوث تھا۔ سنیچر کے روز ملتان جیل میں پھانسی پانے والے محمد اسلام کے سسر لیاقت دایو نے بتایا کہ پھانسی سے قبل آخری ملاقات میں انہوں نے اہل خانہ کو رونے اور سوگ منانے سے سختی سے منع کیا کیونکہ ان کے بقول وہ شہید کی موت مر رہے تھے۔ ٹھل کی میونسپل کمیٹی کے ملازم لیاقت دایو کا کہنا تھا کہ پیر کو محمد اسلام کے سوئم کی رسومات ادا کی گئیں لیکن تعزیت کے لیے اب بھی لوگ آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹھل کے ہائی سکول میں اتوار کے روز جب نماز جنازہ ادا کی گئی تو اس میں درجنوں افراد شریک ہوئے جن میں مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کی خاصی تعداد بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ محمد اسلام دایو جو خود کو صدیقی کہلواتے تھے، انہیں دو برس قبل پشاور میں اپنے یونٹ میں ڈیوٹی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق گرفتاری کے بعد سے انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملی اور نہ ہی تاحال پندرہ برس سے زیادہ عرصہ ملازمت کے باوجود انہیں کوئی رقم ملی ہے۔ لیاقت دایو نے بتایا کہ محمد اسلام نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹی ہے جس کی عمر دس برس ہے۔ پہلی بیوی کو انہوں نے طلاق دے دی تھی اور جب دوسری شادی کی تو اپنی بچی بھی اپنے ساتھ رکھی۔ دوسری بیوی سے ان کے دو بیٹے ہوئے جن کی عمر دو سے پانچ برس کے درمیان ہے۔ محمد اسلام کا خاندان انتہائی غریب ہے اور یہ لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ان کے سسر کے مطابق روزگار کے سلسلے میں محمد اسلام کے والد صوبہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں خانہ بدوشوں کی طرح رہتے رہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر چودہ دسمبر اور پچیس دسمبر کو راولپنڈی میں ایک مقام پر دو ناکام مگر خطرناک خود کش حملے ہوئے تھے۔ دونوں حملوں کی تحقیقات اور ملزمان کی تفصیلات تاحال سرکاری طور پر تو سامنے نہیں لائی گئیں البتہ صدر جنرل پرویز مشرف نے میڈیا کے ساتھ مختلف انٹرویوز میں کچھ معلومات فراہم کی تھی۔ چودہ دسمبر کے حملے میں محمد اسلام سمیت بری فوج کے دو اہلکار شامل تھے جن میں سے فوجی عدالت نے سپاہی محمد اسلام کو پھانسی اور ایک حوالدار کو دس برس قید کی سزا سنائی جبکہ فضائیہ کے کچھ اہلکاروں کا علیحدہ کورٹ مارشل ہوا تھا اور ان میں سے ایک ملزم چند ماہ قبل فرار بھی ہوگیا تھا۔ پچیس دسمبر کے حملے میں ملوث ملزمان پر اٹک قلعہ میں خصوصی طور پر قائم کردہ فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے جو کہ آخری مراحل میں ہے۔ اس مقدمے میں ایک فوجی کمانڈو اور آٹھ شہری ملزمان پر مقدمہ چل رہا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||