خواتین پرتشدد کےخلاف ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکمران صدر جنرل پرویز مشرف کے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سےخطاب کےموقع پر پاکستان میں خواتین پرتشدد اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سولہ ستمبر منگل کی شام نیویارک میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے ’پاکستان میں انسانی حقوق‘ کے عنوان سے نکلنے والی اس ریلی کا اہتمام امریکہ میں پاکستان میں خواتین کےحقوق پرسرگرم تنظیم ایشین امریکن اگینسٹ ابیوز آف ویمن یعنی ’آنا‘ نے کیا ہے۔ آنا نےتوقع ظاہر کی ہے کہ اس ریلی کی قیادت ڈاکٹر شازیہ کریں گی۔ آنا نےاسکے ساتھ اس ریلی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کی سرگرم تنظیموں کی شرکت کی امید بھی ظاہر کی۔
ان تنظیموں میں ہیومن رائیٹس واچ، نیویارک میں پاکستانی تارکین کی شہری آزادیوں کےلیے کام کرنے والی تنظیم کونی آئیلینڈ پروجیکٹ اور جنوب ایشسیائی عورتوں کی تنظیم سکھی بھی شامل ہیں۔ آنا کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بتایا ہے کہ فوجی حمکران جنرل پرویز مشرف کے اقوام متحدہ سے خطاب کےدوران پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اس احتجاجی ریلی میں پاکستان سے پیپلز پارٹی کی ایم این اے شیری رحمان، ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کےافراسیاب خٹک اور عورت فاؤنڈیشن کی انیس ہارون بھی شرکت کریں گے۔ اس سال کے آغاز میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں تعینات جنسی زیادتی کا شکار ہونیوالی ڈاکٹر شازیہ خالد اب اپنے شوہر کے ساتھ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ آمنہ بٹر نے بتایا کہ وہ نیویارک میں ہونےوالی انسانی حقوق کی اس ریلی میں ضرور شرکت کریں گی بشرطیکہ برطانوی حکومت انہیں امریکہ سفر کرنےکی اجازت دے۔
کہاجارہا ہے کہ اس ریلی میں امریکہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےسرگرم کارکنوں، دانشوروں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||