بلوچستان: گرفتار ہونے والا کون ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کی شناخت کے بارے میں تنازعہ پید ہو گیا ہے۔ پولیس نے ان کا نام حاجی خان مری بتایا تھا لیکن ان کی اخبار میں شائع ہونے والی تصاویر دیکھ کر نادر مری نامی ایک شخص نے ان کا نام اللہ داد مری بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے وہ ان کے بھائی ہیں۔ حاجی خان مری یا اللہ داد مری ان دنوں کوئٹہ میں پولیس کی کرائمز برانچ کے پاس ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب میں بدھ کے روز نادر مری نے دو ساتھیوں کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے بھائی اللہ داد مری کو پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکار دالبندین سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بائیس اپریل کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس خضدار پرویز ظہور نے مستونگ سے ایک شخص حاجی خان مری کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جس کی نشاندہی پر ان کے مطابق ساٹھ بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ نادر مری نے کہا کہ اخبارات میں گرفتار ہونے والے شخص کی جو تصویر شائع ہوئی ہیں وہ ان کے بھائی اللہ داد مری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں گرفتار شدہ شخص سے ملنے نہیں دیتی تاکہ وہ اس کی باقاعدہ شناخت کر سکیں۔ بائیس اپریل کو ڈی آئی جی پولیس پرویز ظہور نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ’حاجی خان مری‘ افغانستان سے آئے تھے۔ ڈی آئی جی نے ان تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ’حاجی خان مری‘ کو بائیس اپریل کی صبح گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی سے جب نادر مری کی دعوے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ملزم کی نشاندہی پر بارودی سرنگیں برآمد کی گئی ہیں۔ نادر مری نے کہا ہے کہ پولیس کے دعوے کے حوالے سے شائع شدہ خبر میں مختلف اخباروں میں گرفتار کیے جانے والے شخص کے مختلف نام شائع ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتیں یہ دعوی کر تی ہیں کہ چار سو سترہ سے زیادہ افراد کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے اٹھا کر لے گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گزشتہ سات ماہ سے کچھ لوگ ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان رشتہ دراوں درزی علی اصغر بنگلزئی اور حافظ سعید کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے اور اب تک ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر حنیف شریف کو تربت سے پکڑا گیا جن کے بارے میں گزشتہ روز یہ بتایا گیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی فورس کے پاس ہیں اور ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’بلوچ آرمی کا کوئی وجود نہیں‘09 April, 2006 | پاکستان بلوچستان لِبریشن آرمی پر پابندی09 April, 2006 | پاکستان ’حکومت مخالف صرف3 سردارنہیں‘17 April, 2006 | پاکستان سیمینار: فوجی آپریشن اور صوبائی خودمختاری20 April, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری26 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||