کوئٹہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کو مایوسی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس پر ہسپتالوں میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔ یہ ہڑتال ڈاکٹروں کے گھروں میں ڈاکے اور ڈاکٹروں پر ڈیوٹی کے دوران حملے اور تُربت سے اٹھائے گئے ڈاکٹر حنیف شریف کی حراست کے خلاف تھی۔ کوئٹہ میں کچھ ڈاکٹروں کے گھروں پر ڈاکے پڑے ہیں جس میں ملزمان بڑی رقم اور قیمتی سامان ساتھ لے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ’اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض کے لواحقین ڈاکٹروں پر اسلحہ تان کر کہتے ہیں کہ اگر مریض ٹھیک نہ ہوا تو تمھاری خیر نہیں ہے۔ ایسے حالات میں وہ کیسے کام کر سکتے ہیں؟‘ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نعیم آغا نے کہا ہے کہ ڈاکے اور حملوں کے علاوہ تیسرا مسئلہ تربت سے اٹھائے گئے ڈاکٹر حنیف شریف کی حراست ہے لیکن اب ڈاکٹر حنیف شریف کو انسداد دہشت گردی کی فورس کے پاس دے دیا گیا ہے اور ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ انھیں منظر عام پر لایا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کے تمام اہم مسائل حل نہیں ہوتے ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔ کوئٹہ کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں مریض مسائل سے دو چار ہیں۔ مریض اور ان کے لواحقین ڈاکٹروں پر تنقید کرتے رہے اور بعض مقامات پر ڈاکٹروں کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی ہے۔ لوگوں نے ڈاکٹروں کے رویے پر بہت تنقید کی اور کئی لوگوں نے یہ بھی پوچھا کہ ’ان ڈاکٹروں کے پاس یہ کروڑوں کی رقم آئی کہاں سے ہے ؟ ان ڈاکٹروں نے لوگوں کو بڑی بڑی فیسیں لے کر لوٹا ہے تو اب ان کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔‘ اس سلسلے میں صوبائی وزیر صحت حافظ حمداللہ سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ دریں اثنا صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے گھروں میں ڈاکوں کے حوالے سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے نقدی اور قیمتی اشیاء برآمد ہوئی ہیں مذ ید تفتیش کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں زمیندار مظاہرہ: دس زخمی،150گرفتار22 April, 2006 | پاکستان ممبئی، ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری01 March, 2006 | انڈیا مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری 16 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||