ممبئی، ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر ممبئی میں سرکاری ہسپتالوں کے تقریباً ساڑھے تین ہزار سے زائد رہائشی ڈاکٹروں کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری ہے اور اسی وجہ سے تمام ہسپتالوں میں کام کاج بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وارڈ میں داخل مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اس لیئے کے ای ایم ہسپتال میں دو مریضوں کی موت واقع ہو گئی ۔ ذرائع کے مطابق کے ای ایم ہسپتال میں چیمبور علاقہ سے ذیابطیس کی مریضہ دھیرج رانی جیسوال کو ایک ہفتہ قبل علاج کے لیئے داخل کیا گیا تھا۔ وارڈ کے مریضوں کے مطابق تین دنوں سے انہیں دیکھنے کوئی ڈاکٹر نہیں آیا بس نرس آکر دوائیں دے کر جاتی ہیں ۔مریضہ کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے ۔
ہڑتال اب تیسرے روز بھی جاری رہے گی کیونکہ حکومت کے ساتھ مہاراشٹر ایسو سی ایشن آف ریزیڈینس ڈاکٹرز( MARD) کی میٹنگ ناکام ہو گئی۔ ہڑتال کی وجہ سے ہسپتال کے ایمرجنسی سروسز اور او پی ڈی ڈپارٹمنٹ کا کام کاج ٹھپ پڑ چکا ہے ۔شہر کے دور دراز علاقوں سے علاج کے لیئے آئے مریض اور ان کے رشتہ دار مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ ہڑتال کی وجہ رہائشی ڈاکٹروں کی مریضوں کے رشتہ داروں کے ذریعہ مار پیٹ بتائی جاتی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن کے ماتحت چلنے والے ہسپتال کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال (کے ای ایم ) میں کچھ لوگ ایک مریضہ کو ساتھ لائے تھے جسے سانس میں تکلیف کی شکایت تھی۔ ایمرجنسی وارڈ میں ان کا علاج جاری تھا کہ کچھ دیر بعد ڈاکٹر روہن نے باہر آکر بتایا کہ مریضہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ یہ سنتے ہی اس کے رشتہ داروں نے ڈاکٹر کی مبینہ طور پر پٹائی کر دی۔ ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ کا دوسرا واقعہ باندرہ کے بھابھا اسپتال کا ہے جہاں تولید کے لیئے لائی گئی خاتون کی رشتہ دار کو زچگی وارڈ میں جانے سے جب ڈاکٹر نے منع کیا تو اس نے لیڈی ڈاکٹر کی پٹائی کر دی۔ ان دو واقعات سے رہائشی ڈاکٹرز نے ایک ساتھ ہڑتال کا اعلان کر دیا اور اس وقت سے شہر کے پندرہ سرکاری اور ریاستی حکومت کے ماتحت چلنے والے ہسپتالوں کے تمام رہائشی ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر (ہیلتھ) وجے پاٹنکر نے اعتراف کیا ہے کہ اگر یہ ہڑتال اسی طرح جاری رہے گی تو حالات بدتر ہو سکتے ہیں ۔ ایم اے آر ڈی کے سکریٹری یوگانند پاٹل کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔اس سے پہلے بھی ڈاکٹروں کے ساتھ مارپیٹ کی جا چکی ہے اور حکومت ہر مرتبہ وعدہ کر کے اس پر عمل کبھی نہیں کرتی ۔انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ ہر ہسپتال میں رہائشی ڈاکٹروں کو سیکوریٹی مہیا کرائی جائے ۔ایمرجنسی وارڈ کے باہر پولس کا پہرہ رہے ۔رہائشی ڈاکٹروں کو کینٹین اور دیگر سہولیات دی جائیں جو صرف سینئر انتظامیہ افسران کو ہی دی جاتی ہیں جبکہ سارا کام رہائشی ڈاکٹر کرتے ہیں ۔ پاٹل نے کہا ’ آج حکومت کے ساتھ میٹنگ ناکام ہو گئی کیونکہ ’حکومت ہمارے مطالبات کو سمجھنے کے لیئے تیار نہیں ہے ۔اس لیئے اب ممبئی ہی نہیں پورے مہاراشٹر یعنی پونے ،اورنگ آباد اور ناگپور کے ڈاکٹر بھی ہڑتال میں شامل ہوجائیں گے‘۔ حکومت کے زیر انتظام جے جے ہسپتال کے ڈین پروین شنگاری نے بتایا کہ انہوں نے لیکچرار اور سینئر ڈاکٹروں کی مدد لی ہے لیکن اگر ہڑتال ختم نہیں ہوئی تو مریضوں کے لیئے تکلیف ہو سکتی ہے ۔ |
اسی بارے میں ’جیل جاؤ گئے یا ہڑتال ختم کرو گے‘21 January, 2006 | انڈیا مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری 16 November, 2004 | انڈیا ڈاکٹروں کی ہڑتال میں جزوی کمی15 November, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||