’جیل جاؤ گئے یا ہڑتال ختم کرو گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پانچ دن سے ہڑتال کیے ہوئے ڈاکٹروں نے حکومت کی طرف جیل بھیج دینے کی دھمکی کے بعد اپنی ہڑتال ختم کر دی ہے۔ مدہیہ پردیش میں قریباً چھ ہزار جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے ایک ساتھی ڈاکٹر کے ساتھ ایک پولیس رینگروٹ کی مبینہ بدتیمزی کے بعد سات سرکاری میڈیکل کالجوں میں کام بند کر دیا تھا۔ مدھیہ پردیش کی حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دھمکی دے تھی کہ اگر انہوں نے فوراً ہڑتال ختم نہ کی تو ان کو گرفتار کر جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا مطالبہ تھا کہ پولیس رینگروٹ کو نوکری سے نکالا جائے۔ حکومت نے یورنیوسٹی بند کرنے کا فیصلہ طالبعملوں کی طرف یونیورسٹی کے وائس چانلسر کے دفتر کو جلانے کے بعد کیا۔ کنگ جورج میڈیکل یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ طالبعلموں کو پرتشدد کاررائیاں کرنے پر اکسا رہے ہیں۔حکام نے طالبعملوں کو کہا ہے کہ وہ یونیورسٹی ہاسٹلز کو فوراً خالی کر دیں ہے۔ | اسی بارے میں چائے کے باغات میں ہڑتال11 July, 2005 | انڈیا ٹرک ڈرائیوروں کی ہڑتال21 August, 2004 | انڈیا یوم آزادی: آسام، بنگال میں ہڑتال10 August, 2005 | انڈیا مغربی بنگال: قبیلے کی بھوک ہڑتال24 September, 2005 | انڈیا اقتصادی اصلاحات: بھارت میں ہڑتال29 September, 2005 | انڈیا بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند09 January, 2006 | انڈیا ٹیکس کے خلاف ملک گیر ہڑتال 30 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||