یوم آزادی: آسام، بنگال میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاستوں اور مغربی بنگال کے بعض علاقوں میں چار علیحدگی پسند تنظیموں نے پندرہ اگست، یعنی بھارت کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ آسام کی یونائٹڈ لبریشن فرنٹ یعنی الفا ، کامتاپور لبریشن آرگنائزيشن یعنی کے ایل اؤ، تری پورہ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ، یعنی ٹی پی ڈی ایف اور منی پور پیپلز لبریشن فرنٹ یعنی ایم پی ایل ایف تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ ’اقتدار اعلٰی اور آزادی ہی ہمارا مقصد ہے۔ بے شک ہندوستانی رہنما طاقتور ہیں لیکن انکے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ ‘ بیان میں مختلف علاقوں میں نافذ اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ سے لڑنے کے لیے متحدہ مہم شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جس طرح کئی مختلف علاقوں میں فوج کی زیادتیوں کے خلاف جدوجہد جاری ہے اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے لیکن فی الوقت ان زیادتیوں سے لڑنے کے لیے سب کا متحد ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘ علیحدگی پسندوں کے اس بیان میں فوج کی زیادتیوں کے خلاف آسام ، منی پور اور تری پورا کے لوگوں کی مہم اور احتجاج کی ستائش کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند تنظیمیں فوج کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہیں ۔دو دن قبل ہی الفا باغیوں نے آسام کی ایک تیل اور گیس پائپ لائن کو بم سے اڑا دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان باغیوں نے کئی پلوں اور ٹیلیفون کی سہولیات پر بھی حملہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بیان سے امکانات ہیں کہ آسام کی مصنف اندرا رائے سم گوسوامی کی ثالثی حکومت اور الفا باغیوں کے درمیان مذاکرات کرائے جانے کی کوششوں مکمل طور پر ضائع ہو گئی ہيں۔ اکسٹرنل انٹیلجنس ’راء ‘ کے ڈپٹی چیف بی بی نندی کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک بار پھر تشدد کے راستے پر اتر آئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||