پائپ لائن ہم نے اڑائی: الفا باغی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے علیحدگی پسندگروہ ’الفا‘ نے تیل کی پائپ لائن پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے تاہم الفا باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کو ریاستی دارالحکومت گوہاٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث نہیں ہیں۔ پولیس نےگوہاٹی سے پچیس میل دور بوکو میں ایک بس سٹاپ پر ہونے والے اس بم دھماکے کی ذمہ داری یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کے باغیوں پر ڈالی تھی۔ بھارتی حکام کے مطابق پائپ لائن پھٹنے سے ریاست کے تیل صاف کرنے والےدو بڑے کارخانوں کو تیل کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ پولیس کا کہناہے کہ آسام کے شمالی صوبے شب ساگر میں چیلا کاپر کےمقام پر سنیچر کو ہونے والےاس دھماکے سے پائپ لائن سے نکلنے والے تیل نے آگ پکڑ لی جس کو بجھانے میں فائر برئگیڈ کےعملے کو کئی گھنٹے لگے۔ آسام انٹیلیجنس پولیس کے سربراہ کھاگن سرما نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ تمام حملوں کے پیچھے الفا باغیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ آسام میں کوئی اور گروہ اتنے کم وقت میں اتنے فاصلے پر منظم طریقے سے حملہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہ الفا کا کام ہے اور ان کے پاس یہ دھماکے کرنے کی وجہ بھی ہے‘۔ الفا کے فوجی ونگ کے سربراہ پاریش باروا کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے پائپ لائن پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے بوکو میں ہونے والے دھماکے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ علیحدگی پسند بھارتی معاشی اور فوجی تنصیبات پر حملے کرتے رہیں گے لیکن ہم اپنے لوگوں کو کیوں ماریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’حکومتی ایجنٹ ہمیں بدنام کرنے کے لیے اور عوام کو متذبذب کرنے کے لیے پرہجوم بازاروں میں گرینیڈ پھینک رہے ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||