آسام: مذاکرات کی پیشکش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں سرگرم باغیوں کی ایک تنظیم نے بھارتی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ یونائٹیڈ لِبریشن فرنٹ آف آسام کا کہنا ہے کہ اس نے یہ پیشکش اس لیے مسترد کردی کیونکہ تشدد کا راستہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے باغیوں کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ حکومت انہی گروہوں کے ساتھ بات کرے گی جو تشدد کا راستہ چھوڑ نے کو تیار ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے امن مذاکرات کی پیشکش ایک خط کے ذریعے کی گئی تھی جو انہوں نے آسامی مصنفہ اندرا گوسوامی کو لکھی تھی۔ باغیوں نے اندرا گوسوامی کو مصالحت کار کی حیثیت سے نامزد کیا ہے۔ جمعہ کے روز جاری کیے جانے والے ایک بیان میں باغیوں کے کمانڈر پریش برووا نے الزام لگایا کہ وزیراعظم غیرمشروط بات چیت کے اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں۔ بروا نے کہا: ’ان حالات میں بات چیت کرنا ممکن نہیں ہے۔‘ گزشتہ ماہ شمال مشرق کے سفر پر وزیراعظم منموہن سنگھ نے آسام کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے پر بھی انہوں نے باغی گروہوں سے مذاکرات کی اپیل کی تھی۔ بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں میں دو سو سے زائد قبائلی برادریاں بستی ہیں اور لگ بھگ بیس باغی تنظیمیں قبائلیوں کے حقوق یا آزادی کے لیے لڑرہی ہیں۔ ریاست آسام میں یونائٹیڈ لِبریشن فرنٹ ایک مؤثر باغی تنظیم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||