آسام میں ہلاکتوں کے بعد کرفیو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس نے گوپال پور ضلع میں مقامی خودمختاری کے مطالبہ کے لئے عام ہڑتال کے دوران تین افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ آسام کی پولیس کے سربراہ کھاگن شرما نے بتایا ہے کہ مقامی تاجروں نے رہبا قبیلہ کے افراد پر حملہ کیا تھا جو مغربی آسام میں عام ہڑتال کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو گروہوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا جس کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے۔ شرما نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں رہنے والے رہبا قبائل اور دوسرے آسامی افراد کے درمیان جھڑپیں روکنے کے لئے اپنے افسروں کو کرفیو کے دوران گڑبڑ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار نے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناء شمالی ریاست بہار میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ انتخابات کے وہ امیدوار جن پر کسی جرم کے سنگین الزامات ہیں اور جنہیں سکیورٹی کی تحویل میں ہونا چاہئے، وہ انتخابات کے دوران زیر حراست ہی رہیں گے۔ پہار میں قتل اور اغوا کے الزامات کے تحت حراست میں لئے گئے کم از کم دو امیدواروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو اس ہدایت پر عمل کرنے کے لئے اتوار تک کی مہلت دی ہے تاکہ ان افراد کو واپس سرکاری تحویل میں رکھا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||