تریپورہ میں بڑی تعداد میں ووٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں پہلے روز کی ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے جبکہ تریپورہ میں علیحدگی پسند شدت پسندوں نے لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ پولنگ سٹیشنوں سے دور رہیں۔ حکام کے اندازے کے مطابق بیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ساٹھ فیصد نے ووٹ ڈالے۔ تاہم بعض پولنگ سٹیشنوں پر باغیوں کی فائرنگ کے باعث ووٹر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن تریپورہ میں بی بی سی کے نامہ نگار سبیر بھومک کے مطابق ووٹنگ کا عمل عمومی طور پر پرامن رہا۔ تریپورہ میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اس چھوٹی سی ریاست میں انتخابات مخالف علیحدگی پسندوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور فوج کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ منگل کے مرحلے میں بھارت کے ووٹ دہندگان کی ایک چوتھائی تعداد نے ووٹ ڈالے ہیں۔ اب سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ اس مرحلے میں بھارت کی بڑی شمالی ریاستیں مثلاً اترپردیش اور بہار میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تریپورہ کے پاس بھارتی پارلیمان کی صرف دو نشستیں ہیں۔ پچھلی بار یہ دونوں نشستیں کمیونسٹ پارٹی نے جیتیں تھیں۔ ابتدائی طور پر تریپورہ میں انتخابارت بیس اپریل کو ہونا تھے تاہم ایک مقامی تہوار کے باعث یہ تاریخ دو دن آگے بڑھا دی گئی تھی۔ علیحدگی پسندوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ انتخابات کے عمل میں رخنہ اندازی کریں گے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی طرح کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ ریاست کی بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر بھی سکیورٹی بڑھادی گئی تھی تاکہ سرحد پار سے باغیوں کی آمد کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||