ملائم سنگھ: ’اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائم سنگھ یادو کدھر جائیں گے؟ ہندوستانی سیاست میں یہ سوال کہ اب ’اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘ کی مانند پیچیدہ ہو چکا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ انتحابات کے نتائج آنے کے بعد ملائم سنگھ یادو بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے میں شامل ہوں گے۔ اس کے برعکس خود سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری امر سنگھ کہتے ہیں کہ این ڈی اے اگر ملائم سنگھ کو وزیراعظم کا عہدہ بھی پیش کرے تو بھی وہ اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔ رام جنم بھومی مندر کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے والی بی جے پی اور آر ایس ایس خیمے کے ذریعہ ’مولانا‘ کہے جانے والے ملائم سنگھ یادو کا ایک دوسرے کی طرف ’نرم رویہ‘ایک عرصے سے موضوع ِبحث بنا ہواہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم واجپئی نے یہ بیان دیا تھا کہ نظریاتی طور پر سماج وادی پارٹی ہمارے کافی قریب ہے۔ فکری ہم آہنگی کے اس دعوے کی سماج وادی پارٹی نے تردید تو کی ہے مگر صدر ملائم سنگھ یادو اور جنرل سکریٹری امر سنگھ کے بیان کا لہجہ قدرے مختلف ہے۔ ملائم سنگھ یادو بی جے پی سے دوستی کی شرائط رکھ رہے ہیں تو امر سنگھ بی جی پی سے اپنی دوری ثابت کرنے کے لئے دلائل دے رہے ہیں۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ حیران و پریشان یو پی کے مسلمان ہیں۔
مسٹر واجپئی کے بیان کے جواب میں ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ بی جے پی ایودھیا میں مسجد بنانے کا وعدہ کرے، دفع تین سو ستر اور مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی جیسے مسائل چھوڑ دے تو بی جے پی سےدوستی ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف امر سنگھ کہتے ہیں کہ فکری قربت کا بیان غلط فہمی پھیلانے کی کوشش ہے کیونکہ سماج وادی پارٹی نہ تو کبھی بی جے پی کے ساتھ تھی اور نہ کبھی ہو گی۔ اس سلسلے میں یو پی کی سیاست کے ماہر شمبھو ناتھ سنگھ کی رائے ہے کہ مسٹر واجپئی کی جانب سے ملائم سنگھ کی تعریف اور ان سے قربت ایسی ہی ہے جیسے ذیابیطس کے مریض کے لئے مٹھائی ہوتی ہے۔ ملائم سنگھ اس سے بچنے کے لئے کیا کرتے ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کیونکہ ایک طرف انہیں اپنا ووٹ بچانا ہے تو دوسری طرف ایسا ’متوازن‘ رخ بھی اختیار کئے رکھنا ہے کہ انتحابات کے بعد کوئی ’اہم رول‘ نبھانے کا موقع آنے پر انہیں اپنے چند ہفتے قبل کے بیانات خفت کا باعث بنتے نظر نہ آئیں۔ پالیمانی انتخابات کے لئے کانگریس کے ساتھ سماج وادی پارٹی کا اتحاد نہ ہونا بھی کوئی کم پیچیدہ معاملہ نہیں۔ سماج وادی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس کے لئے اٹھارہ سے بیس سیٹیں چھوڑنے کو تیار تھی مگر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نےاپنے حالیہ انٹرویو میں ایسی کسی پیشکش سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کسی پیشکش کو وہ ضرور تسلیم کر لیتیں۔ سماج وادی پارٹی کا الزام ہے کہ کانگریس کی کوشش مس مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی سے اتحاد قائم کرنے کی تھی جو ایک سے زائد بار بی جے پی سے اتحاد قائم کر چکی ہے۔
کانگریس کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے اتحاد کی کوشش تو کچھ مسلمان مذہبی تنظیموں نے بھی کی لیکن سماج وادی پارٹی کی طرف سے جواب ملا کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ ملائم سنگھ یادو اور کانگریس کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے بی جے پی کو ہونے والے فائدہ کے بارے میں روزنامہ ’قومی تنظیم‘ نے اپنے حالیہ اداریہ میں لکھا کہ پانچ برس قبل انہوں نے کانگریس اور اس کے حلیفوں کو مرکز میں اقتدار میں نہیں آنے دیا اور اب اس الیکشن کے موقع پر بھی وہ پانچ سال پہلے والی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو اور بی جے پی کے تعلقات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا اس لئے بھی ممکن نہیں کہ دونوں کبھی ایک دوسرے کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور اگلے ہی روز سخت تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ مسٹر واجپئی کے لکھنؤ میں ملائم سنگھ کی تعریف کئے ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ یو پی، بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے خلاف اپنی ’چارج شیٹ‘ جاری کر دی۔ سماج وادی پارٹی اتر پردیش کو ’اتم پردیش‘ (سب سے بہتر ریاست) بنانے کاوعدہ کر رہی ہے تو بی جے پی نے اپنی چارج شیٹ میں ریاست کو ’اپر ادھ پردیش‘ (جرم کی ریاست) قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||