آسام بم حملہ: تدفین و سوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں ملک کے یوم آزادی سے ایک دن قبل بم حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے موقع پر سوگوار خاندانوں کے دردناک مناظر سمانے آئے۔ دھماکے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں بیشتر یوم آزادی کے موقع پر ایک جلوس میں شریک ہونے والے سکول کے بچے اور ان کی امائیں شامل تھیں۔ تقریب میں بم دھماکہ پولیس نے آسام کی علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ دھماکہ اس نے کرایا ہے۔ ہلاک ہونیوالوں میں دو مقامی سیاست دان بھی شامل ہیں۔ دھماکہ بھارت کے وقت ساڑھے نو بجے آسام کے قصبے کھامجی میں ہوا۔ کھامجی ریاست آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے چار سو ساٹھ کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے اپیل کر رکھی تھی کہ بھارت کی یوم آزادی کی تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے ہونے میں اکثریت سکول کے بچوں کی ہے جن کو آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لایا گیا تھا۔ علیحدگی پسند تنظیم، یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام بھارت سے علحیدگی کے لیے 1979 سے کوشش کر رہی ہے۔ علیحدگی کی اس تحریک میں پچھلے دس سالوں میں اب تک دس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پورے بھارت میں سیکیورٹی فورسز نے یوم آزادی کی تقریبات کے دوران علیحدگی پسند گروپوں کی ممکنہ تخریبی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں ۔ دارالحکومت دہلی کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے نظر آتے ہیں اور 65000 ہزار پولیس اور پیراملٹری فورسز تخریبی کاروائیوں سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||