BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 August, 2004, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خصوصی قوانین: وزراء کی دھمکی
کشمیر میں بھی اسی قانون کے تحت فوج کی اختیارات حاصل ہیں۔
کشمیر میں بھی اسی قانون کے تحت فوج کی اختیارات حاصل ہیں۔
بھارتی ریاست مانی پور میں حکمران کانگرس پارٹی کے صوبائی وزراء نے علیحدگی پسند تحریکوں کو کچلنے کے لیے فوج کو ایک خصوصی قانون کے تحت حاصل وسیع اختیارات کو واپس نہ لینے کی صورت میں حکومت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی ہے۔

دریں اتنا مانی پور کے ریاستی دارالحکومت امپال میں ہزاروں طالب علموں اور خواتین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ خواتین نے احتجاج کے دوران بھارتی فوج کے سامنے کپڑے اتار کر اپنے جسموں پر بینر لپیٹ لیے جن پر لکھا تھا ’ آؤ ہمیں ریپ کرو۔‘

احتجاج کے دوران کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی جب کہ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کئی جگہوں پر لاٹھی چارج کیا۔

مانی پور کے وزیر اعلی اوکرم اوبوبی سنگھ ہنگامی دورے پر دہلی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ریاست میں ان قوانین کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر مرکزئی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات بھارتی سکیورٹی فورسز کو اس ہی قانون کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ سپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ کو اسام اور مانی پور کی ریاستوں میں انیس سو اٹھاون میں نافذ کیا گیا تھا۔ انیس سو ستتر میں اس میں ترمیم کر کے اس کو شمال مشرق کی پانچ مزید ریاستوں ، تری پورہ، میگہالے، اروناچل پردیس ، میزورام، ناگا لینڈ تک وسیع کر دیا گیا۔

یہ بدنامِ زمانہ قانون پنجاب میں سکھوں کی تحریک کے دوران بھی نافذ رہا ہے۔ ان قوانین کے تحت فوج کو گھروں کی تلاشی اور اپنے دفاع میں قتل کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

مانی پور میں مقامی حکومت کے اہل کاروں نے کہا ہے کہ اگر فوج کو حاصل ان اختیارات کو واپس نہ لیا گیا تو وہ انسانی حقوق ، خواتین اور نوجوانوں کی ان بتیس تنظیموں کی طرف سے ان قوانین کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں شریک ہو جائیں گے۔

مانی پور میں ان قوانین کے خلاف جولائی کے شروع میں تحریک کا آغاز کیا گیا جب بھارتی فوج نے میبنہ طور پر ایک بچی کے ساتھ زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا تھا۔

ان سماجی تنظیموں نے حکومت کو ان قوانین کو واپس لینے کے لیے جو مہلت دی تھی وہ ہفتے کو ختم ہو گئی ہے اور اتوار سے دوبارہ احتجاجی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

گزشہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو اس تحریک کو دبانے کے لیے مانی پور روانہ کیا گیا ہے۔

اس مہم میں شامل ایک تنظیم کے رکن نے کہا کہ آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک کو مزید تیز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک منورامہ کے قاتلوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی وہ اپنی تحریک چلاتے رہیں گے۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پندرہ اگست تک مانی پور کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس قانون کو واپس لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرے گی۔ مانی پور کے لوگ ان قوانین کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد