بھارتی زیرِانتظام کشمیرمیں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اسلامی علیحدگی پسند کو سزائے موت سنانے کے فیصلے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند گروپوں کی اپیل پر تمام دکانیں ، تجارتی اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ کشمیر ہائیکورٹ بار نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو پرنقص قرار دیا تھا۔ محمد افضل گرو کو بھارتی سپریم کورٹ نے چار سال قبل بھارتی پارلیمان کے حملہ آوروں کی معاونت کرنے کا الزام ثابت ہو جانے پر موت کی سزا سنائی تھی۔ افضل گرو کی بیوی نے کہا ہے کہ وہ صدر سے اپیل کریں گی کہ ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ اس موقع پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محمد افضل سے یکجہتی کے مظاہرے کے لیے مکمل ہڑتال کریں‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کو پھانسی دینے سے تحریکِ آزادی نہیں رکے گی۔ افضل گرو کے آبائی علاقے سوپور کے رہائشی مشتاق احمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ سوپور بالکل ویران نظر آرہا تھا اور ہڑتال نے زندگی مفلوج کر دی ہے‘۔ کشمیر میں جاری علیحدگی کی تحریک میں اب تک چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||