دوعسکریت پسندوں کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں اور فوجی دستوں کے مابین ہونےوالےمقابلےمیں دو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ ریاست کی پولیس کے سربراہ گوپال شرمانے بتایا کہ جمعہ کی شام سے شروع ہونے والا یہ مقابلہ سنیچر کو شام پانچ بجے ختم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد تھا کہ اس آپریشن میں کسی شہری یا کسی انہوں نے بتایا کہ آپریشن ختم ہو چکا ہے اور اس آپریشن میں دو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ مقابلہ جمعہ کی شام اس وقت شروع ہوا جب عسکریت پسندوں نے پولیس کی ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں جس سے گاڑی کو آگ لگ گئی۔ بعد میں ان عسکریت پسندوں نے دو قریبی عمارتوں میں داخل ہو کر مورچے قائم کر لیے۔ ان میں ایک ہوٹل کی عمارت بھی شامل ہے۔ جمعہ کو اس حملے کے فوراً بعد عسکری تنظیم المنصوری نے ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن ایک اور تنظیم جمعیت المجاہدین کے ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں ان کی تنظیم کے دو عسکریت پسندوں نے بھی حصہ لیا۔ تاہم وہ بھارتی نیم فوجی دستوں کے محاصرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس حملے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے کم از کم دو جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔ دو طرفہ فائرنگ میں کل بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے سات کاتعلق ذرائع ابلاغ سے ہے۔ ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل کے کیمرہ مین ظفر احمد شدید زخمی ہوئے ہیں اور سری نگر کے ایس ایم ایچ ہسپتال میں ان کا آپریشن بھی کیاجاچکا ہے۔ پولیس نے سنیچر کو اس ہوٹل سے دو شہریوں کوجبکہ دیگر دو ہوٹلوں اور ایک بینک کی عمارت سے ستر شہریوں کو بھی بحفاظت نکالا۔ علاقے کی گھیرا بندی کے خاتمے کے بعد مقامی باشندے سڑکوں پر نکل آئے اور آزادی کے حق میں مظاہرے کیے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||