بیگناہ لڑکوں کی ہلاکت پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں فوجیوں کے ہاتھوں تین بے گناہ لڑکوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج ہوا ہے۔ ان لڑکوں کا تعلق ضلع کپواڑہ کے تریہگام سے ہے۔ اس علاقے کے لوگوں نے فوج کی اس کارروائی کےخلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انتہا پسندوں کے شبہہ میں فوج نے کچھ نوجوانوں پر گولیاں چلا ئیں تھیں جس سے میں دو لڑکے جائے واردات پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ تیسرا ہسپتال میں دم توڑ گيا۔ سری نگر پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کی شام کو شادی میں آئے تین نوجوان لڑکےگھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ اسی دوران فوج اس علاقے میں کچھ مشتبہ افراد کو تلاش کرہی تھی۔ فوجی نوجوانوں نے لڑکوں کو انتہا پسند سمجھ کران پرگولی چلا دی جس سے دو لڑکے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ دو لڑکوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا جبکہ ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ گزشتہ تین روز میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں فوج کی گولی سے کوئی بےگناہ ہلاک ہوا ہے۔ اس سے قبل ایک واقعہ میں دھان کے کھیت میں کام کرنے والے ایک سولہ برس کے لڑکے کو فوج نےگولی مار دی تھی۔ فاروق عبداللہ نے ان واقعات پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں فوجیوں کی جانب سےحقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ مسٹر عبداللہ کے مطابق اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے حکومت کے وعدوں میں کتنی سچائی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||