بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ٹویوٹا فیکٹری کے کارکنوں نے اپنے ساتھیوں کی بحالی کے لیے ہڑتال کر دی ہے جس کے نتیجے میں جاپانی کمپنی نے بنگلور میں فیکٹری بند کر دی ہے۔ ہڑتال اپنے تیسرے روز میں داخل ہو چکی ہے۔ ان مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ تین مزدوروں کو بحال کر دیا جائے جنہیں تادیبی کارروائی کے دوران نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ یہ فیکٹری جاپانی کمپنی ٹویوٹا اور بھارتی کمپنی کرلوسکر گروپ کے اشتراک سے لگائی گئی ہے اور اس میں ’کرولا‘ اور ’کیمری‘ گاڑیاں بنائی جا رہی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ہفتہ کے روز تقریباً چار سو مزدوروں نے سڑک بلاک کر دی جس پر انتظامیہ نے فیکٹری بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیکٹری کے جنرل مینجر اے آر شنکر نے کہا ہے کہ ’ہمیں بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ ہمارے افسران اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم جتنی جلدی ممکن ہو سکے حالات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں لیکن ہم نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے‘۔ بھارت میں جاپانی کمپنیوں کو اس قسم کے مسائل کا پہلے بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ پچلے سال پولیس اور ہنڈا سکوٹر کمپنی کے مزدوروں کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے کمپنی کو لاکھوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ٹویوٹا کا یہ پلانٹ سالانہ ساٹھ ہزار گاڑیاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہڑتال جمعہ کے روز شروع ہوئی اور کمپنی کا کہنا ہے کہ آنے والے حالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جنرل مینجر اے آر شنکر نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں اور یہ کمپنی کے لیے ایک نازک مرحلہ ہے‘۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||