BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 December, 2005, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2005 – سیاسی جماعتوں کی مشکلوں کا سال

بھارتی پارلیمنٹ
مئی میں منموہن سنگھ کی حکومت نے ایک برس پورا کیا
سن 2005 بھارت کی سیاست میں کافی ہنگامہ خیز سال رہا ہے۔ یہ برس کئی اعلی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال کا سال رہا ۔ ایک ایسا سال جس میں بڑی بڑی جماعتوں کو سخت مشکلات سے گزرنا پڑا ہے۔

جنوری سے ہی اہم سیاسی جماعتیں بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں مصروف تھیں۔

جنوری کے وسط میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے قائم کردہ ایک تحقیقاتی کمیشن نےیہ رپورٹ دی کہ گودھرا کی ٹرین میں آگ کسی منتظم حملے کا نہیں بلکہ حادثاتی آگ کا نتیجہ تھی۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ یہ رپورٹ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے تیار کرائی گئی ہے۔

بہار سے لالو پرساد رخصت ہوئے

بہار میں انتخابات ہوئے اور کسی کو بھی اکثریت نہ ملی۔ آٹھ مہینے کے بعد دوبارہ انتخابات ہوئے اور اس بار جنتا دل یونائٹڈ اور بی جے پی کو زبردست فتح حاصل ہوئی۔ نتیش کمار نومبر کے اواخر میں بہار کے وزير اعلی بنے۔

فروری کے اوائل میں دلی یونیورسٹی کے پرفیسر عبد الر حمن گیلانی پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ پارلیمنٹ پر حملے کے الزام سے بری کر دیے گئے تھے۔ قاتلانہ حملے کے لیے انہوں نے پولس پر الزام لگایا۔ مئی میں منموہن سنگھ کی حکومت نے اقتدار میں ایک برس پورا کیا۔

من موہن سنگھ وزیراعظم کے طور پر ایک طاقت ور رہنما ثابت ہوئے۔ دوسری جانب حکمراں اتحاد کی چیر مین سونیا گاندھی نے بھی پارلمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر فعال کردار ادا کیا۔

مئی کے اواخر میں حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی پاکستان کے دورے پر گئے ۔ وہاں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک عظیم ، سکیولر اور تاریخ ساز رہنما قرار دیا۔

ان کے اس بیان سے بی جے پی کے اندر اور آر ایس ایس کے درمیان ایسا تنازعہ پیدا ہوا کہ انہیں اپنے استعفی کا اعلان کرنا پڑا۔

اڈوانی نے جناح کو ایک عظیم رہنما قرار دیا

انیس سو چوراسی کے سکھ مخالف فسادات کی تحقیقات کرنے والے جسٹس ناناوتی کمیشن کی رپورٹ اگست میں پارلمنٹ میں پیش ہوئی۔ حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد جگدیش ٹائٹلر کو کابینہ سے مستعفی ہونا پڑا ۔ ان پر اس رپورٹ میں فساد بھڑکانے کا الزام تھا۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے حکومت کی طرف سے پہلی بار 1984 کے فسادات کے لیے سکھوں اور پورے ملک سے معافی مانگی۔

جولائی میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ ایک نیوکلیائی سمجھوتہ کیا۔ اس کے تحت بھارت کو اپنی تنصیبات کو غیر فوجی اور فوجی تنصیبات میں درجہ بندی کرنی ہے جس کے بدلے وہ امریکہ کی نیوکلیائی ٹیکنولوجی تک رسائی حاصل کر سکے گا۔

حزب اختلاف نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی نیوکلیائی پالیسی آزاد نہیں رہ گئی ہے۔

اس سال مارچ میں امریکہ کی وزير خارجہ کونڈو لیزا رائس دلی کے دورے پر
آئيں۔

کونڈا لیزا رائس نے بھی اس سال بھارت کا دورہ کیا

انہوں نے بھارت سے اقتصادی اور دماغی تعاون کو وسیع کرنے کے پہلوؤں پر بات کی لیکن کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہوا۔

اپریل کے اواخر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی بھارت آئے۔

انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کیے جانے کی صورت میں نئے ارکان کو ویٹو پاور کا اختیار نہیں ہوگا۔

سال دو ہزار پانچ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے لیے ایک ملا جلا سال
رہا۔ امریکہ نے بھارت کے زبردست احتجاج کے باوجود مودی کو ویزا نہیں دیا۔

وہ مارچ میں برطانیہ جا نا چاہتے تھے۔ برطانوی حکومت نے بھی کہہ دیا کہ ان کا برطانیہ میں استقبال نہیں ہوگا لیکن سال کے اواخر میں انہیں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی۔

جولائی میں بعض شدت پسندوں نے ایودھیا کی منہدم بابری مسجد کے مقام پر واقع عارضي رام مندر کے ڈھانچے پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس حملے میں سارے شدت پسند مارے گئے ۔

انتیس اکتوبر کو ہندؤوں کے تہوار دیوالی سے محض دو روز قبل دلی کے کئی معروف بازاروں میں شدت پسندوں نے بم دھماکے کیے جن ميں ساٹھ سے زيادہ لوگ مارے گئے ۔ پولیس نے اس سلسلے میں بعض کشمیریوں کو پکڑا ہے جو لشکر طیبہ کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔

 12 دسمبر کو ایک ویب سائٹ نے خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے گیارہ ارکان پارلیمان کو رشوت لیتے ہوئے پورے ملک میں ٹی وی پر دکھایا۔ ان سبھی ارکان کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کے بعد انہیں پارلیمنٹ سے باہر نکالنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

یہ سال اقتصادی اعتبار سے کافی اچھا رہا۔ ٹیکس کے ضمن میں زبردست اصلاحات عمل میں آئيں۔ ویٹ کا نظام عمل میں آیا۔ حصص بازار دس ہزار کے پوائنٹ کے قریب پہنچ گیا۔ بائيں بازو کی جماعتیں اقتصادی اصلاحات اور نج کاری پالیسی کی مخالفت کرتی رہیں۔

وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا نام عراق کے ایک اسکینڈل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی وولکر کمیٹی کی رپورٹ میں آنے کے بعد انہیں دسمبر کے اوائل میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں۔

بارہ دسمبر کو ایک ویب سائٹ نے خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے گیارہ ارکان پارلیمان کو رشوت لیتے ہوئے پورے ملک میں ٹی وی پر دکھایا۔ ان سبھی ارکان کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کے بعد انہیں پارلیمنٹ سے باہر نکالنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

بھارت نئے برس میں نئے جذبے اور جوش کے ساتھ داخل ہو رہا ہے ۔ نئے سال میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور ایل کے اڈوانی جیسے کئی اعلی رہنما سیاسی افق سے رفتہ رفتہ ہٹ جائيں گے اور نئے چہرے نمودار ہوں گے۔

نئے سال بنگال، کیرالہ اور تامل ناڈو جیسی کئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں جو بھارت کی مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہوں گے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد