بھارتی شہری کی آنکھ خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہری کی معافی کے لیے سعودی حکومت سے درخواست کریگا۔ چونتیس سالہ عبد اللطیف نوشاد اور ایک سعودی شہری میں لڑائي ہوگئی تھی۔ اس لڑائی کے کئی ہفتے بعد سعودی شہری کی ایک آنکھ خراب ہوگئی ۔ دمّام کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ لڑائی کے سبب آنکھ خراب ہوئی ہے اس لیے سزا کے طور پر نوشاد کی بھی ایک آنکھ پھوڑی جائیگی۔ لیکن نوشاد نے اس فیصلے کے خلاف ریاض کی عدالت عالیہ میں اپیل کی ہے۔ خبروں کے مطابق دس ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مقرر کی گئی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ آنکھ خراب ہونے کی وجہ کیا ہے۔ اس ٹیم میں پانچ ڈاکٹر ملزم کی طرف سے اور پانچ متاثرہ شخص کی طرف سے شامل کیے گئے ہیں۔ مذکورہ شخص کی آنکھ لڑائی کے کئی ہفتوں بعد خراب ہوئی اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ شخص بعض دیگر امراض میں بھی مبتلا ہے۔ سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے سے منسوب ایسی اطلاعات آئی ہیں کہ نوشاد کی معافی کے لیے سفارت خانہ سعودی حکومت سے باضابطہ اپیل کررہا ہے۔ نوشاد کا تعلق کیرالہ سے ہے اور ریاست کے وزیر اعلٰی ومن چانڈی نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر خود وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بات چیت کرینگے اور وزارت خارجہ اس مسئلے کوبراہ راست سعودی حکومت سے طے کرنے کی کوشش کرے گی۔ خبر ہے کہ ملزم اس معاملے میں دیعت کے لیے تیار ہے لیکن سعودی شہری اس کے لیے راضی نہیں ۔ حکومت نے اس طرح کے اشارے دیئے ہیں کہ وہ اس معاملے پر سعودی حکومت سے بات کریگی۔ چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں سعودی فرما روا مہمان خصوصی ہونگے اور اگر اس وقت یہ معاملہ حل نہ ہوا تو ممکن ہے حکومت ان سے رحم کی اپیل کرے۔ عبداللطیف نوشاد صنعتی شہر دمّام روزی کی تلاش میں گئے تھے کہ ایک روز ایک سعودی شہری سے انکی لڑائی ہوگئی۔ یہ واقعہ سن دو ہزار تین میں پیش آیا اور تب سے ہی وہ جیل میں قید ہیں۔ نوشاد نے اپنی تین سالہ بیٹی کو دیکھا تک نہیں ہے کیونکہ اسکی پیدائش کے بعد سے وہ قید میں ہیں۔ تیس سالہ نوشاد کی بیوی سلیکھا نے کہا ہے کہ اگر اس کے شوہر کی ایک آنکھ خراب کی گئی تو خود کشی کر لینگی۔ | اسی بارے میں ہاتھ، پاؤں نہ کاٹے جائیں06 November, 2003 | پاکستان زبردستی کی شادی کے خلاف فتویٰ13 April, 2005 | آس پاس سعودیہ، شہریت دینے کا قانون03 May, 2005 | آس پاس سعودی عرب اور غیرملکی کارکن15 July, 2004 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||