سعودیہ، شہریت دینے کا قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو سعودی شہریت دینے کے اعلان کے بعد سے شہریت کے لیے درخواست فارم حاصل کرنے والوں کی متعلقہ دفاتر کے باہر قطاریں لگ گئی ہیں۔ سعودی حکومت نے حال ہی میں ایک نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت سعودی عرب میں دس سال سے زیادہ عرصے سے مقیم غیر ملکیوں کو سعودی شہریت حاصل کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ اس قانون کے منظور کیے جانے کے بعد مختلف شہروں میں درخواست فارم حاصل کرنے کے لیے متعلقہ دفاتر کے بعد غیر ملکیوں کے ٹھٹ لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر فارم ختم ہوجانے کے سبب لوگ ان فارم کی فوٹو کاپیاں خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ سعودی عرب میں مغربی افریقہ اور جنوبی مشرقی ایشیا اور مشرق بعید کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو یہاں بہتر معاش کی تلاش میں آئے تھے۔ سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی بےروز گاری کے سبب کئی شعبوں میں غیر ملکیوں کے نوکری کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس اقدام کا ایک مقصد سعودی عرب میں مقیم ساٹھ لاکھ کے قریب غیر ملکیوں پر انحصار کو کم کرنا بھی تھا۔ سعودی عرب کی شہریت ملنے کی صورت میں غیر ملکی سعودی عرب میں جائیداد خریدنے اور بینکوں سے ارزاں شرائط پر قرضے حاصل کرنے کے بھی حق دار ہو جائیں گے۔ سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنے والوں کو اپنی پہلی شہریت کو چھوڑنا ہو گا کیونکہ سعودی قانون کے تحت کوئی سعودی شہری دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا۔ اعلیٰ تعلیمی قابلیت، پیشورانہ مہارت اور کسی سعودی شہری سے رشتہ داری رکھنے والے غیر ملکیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||