سعودی عرب: 7 شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افسران کا کہنا ہے کہ ریاض کے شمال میں سعودی حفاظتی دستوں کے ساتھ دن بھر چلنے والی ایک جھڑپ میں سات مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ تشدد اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے القصيم صوبے میں ایک گھر کا محاصرہ کیا۔ صوبائی گورنر کے مطابق اس جھڑپ میں 15 افسر زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی حفاظتی دستے مئی 2003 کے بم دھماکوں کے بعد سے شدت پسندوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں ۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ اتوار کی صبح شروع ہوا اور بارہ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک چلتا رہا۔ اتوار کی شام وزارتِ دفاع کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ متعدد ’مطلوبہ شدت پسند ‘اب بھی اس عمارت میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شدت پسند شدید مزاحمت کر رہے تھے لیکن اب ان کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ حفاظتی دستوں کا خیال تھا کہ یہ مزاحمت چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی۔ 2003 سے شدت پسندوں نےخود کش بم دھماکوں اورحفاظتی دستوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ غیرملکیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کے لیے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو ذمےدار قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||