زبردستی کی شادی کے خلاف فتویٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے ایک فتویٰ دیا ہے جس کے تحت عورت کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کرنے کے عمل کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے۔ مفتی اعظم نے اپنے فتویٰ میں کہا کہ یہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے اور ایسا کرنے والے کو گرفتار کر لینا چاہیئے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ عورتوں کی مرضی کے خلاف ان کی شادی ہے۔ مفتیٰ اعظم نے اس طرح کی شادیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ اعلیٰ دینی اتھارٹی کی طرف سے زبردستی کی شادی کے خلاف لگائی گئی پابندی کو سعودی عرب میں عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں ایک فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ شیخ عبدالعزیز نے، جو سینیئر علماء کی کونسل کے سربراہ ہیں، اپنے فتویٰ میں کہا کہ ’ اسلامی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی عورت کی شادی اس شخص سے کی جائے جس کو وہ پسند نہیں کرتی اور اس شخص سے اس کی شادی نہ ہونے دی جائے جس کو اس نے منتخب کیا ہو‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ باپ جو اس طرح کی شادیوں پر اپنی بیٹیوں کو مجبور کرتے ہیں انہیں جیل میں ڈال دینے چاہیئے اور اس وقت تک نہیں چھوڑنا چاہیئے جب تک وہ اپنی سوچ نہیں بدل لیتے۔ سعودی عرب میں عورتوں پر بہت سی پابندیاں ہیں۔ ان کا حجاب پہننا لازمی ہے، وہ اکیلے سفر نہیں کر سکتیں، اور رشتہ داروں کے علاوہ کسی مرد سے مل بھی نہیں سکتیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||