عراق پر سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی مفتی اعظم شیخ عبداعزیز آلِ شیخ نے فتویٰ دیا ہے کہ ’عراق میں غاصب قوتوں کی بدترین کارروائی‘ کو روکنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں۔ مفتی اعظم سعودی عرب میں اسلامی تحقیق اور فتاویٰ کی اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو بالعموم دنیا بھر کے مسلمانوں کی فقہی مسائل پر رہنمائی کرتی ہے۔ سعودی صحافی راشد حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کمیٹی نے گزشتہ روز کے اجلاس میں عراق کی صورتِ حال پر غور کیا اور ’قتل و غارت گری‘ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ’اسے کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا۔‘ فتوے میں کہا گیا ہے کہ عراقی مسلمانوں کو اس وقت ایک بد ترین ناانصافی، جارحیت اور مجرمانہ کارروائی کا سامنا ہے۔ چھ رکنی کمیٹی نے اس فتوے میں بطورِ خاص امریکی سالاری میں قائم اتحاد یا اتحادیوں کا نام نہیں لیا تاہم عراقیوں سے کہا ہےہ کہ وہ صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ آخری فتح ان کی ہی ہو گی۔ راشد حسین کا کہنا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو بھی آئمۂ مساجد اور خطیبوں نے نجف اور فلوجہ کی صورتِ حال کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حرمِ مکہ میں بھی غاصب قوتوں کو ظالم و جابر قرار دیا گیا تھا۔ سعودی حکومت گزشتہ برسوں کے دوران آئمۂ مساجد اور خطیبوں پر زور دیتی رہی ہے کہ مساجد کے ممبر سیاسی تبصروں کی جگہ نہیں ہیں تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عراق کے واقعات نے علماء کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||