سعودی دانشور کو انٹرویو پر سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں ایک عدالت نے ایک یونیورسٹی پروفیسر کو اس کے ایک ٹی وی انٹرویو پر پانچ سال قید کی سزا دی ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اس انٹرویو کے ذریعے بغاوت اور بد عقیدگی کے بیج بونے کی کوشش کی ہے۔ سعید بن زائر کو اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب اجزیرہ ٹیلی ویژن کو دیے جانے والے انٹرویو کی سعودی حکومت کا جانب سے مذمت کی گئی۔ سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس انٹرویو کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کی تھی۔ ان کے خلاف مقدمہ تو چلایا گیا تاہم انہیں عدالت اپنی نمائندگی کے لیے وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||