BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 July, 2004, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب اور غیرملکی کارکن
سعودی عرب: غیر ملکی ملازمین کے حقوق کیا ہوئِے؟
غیر ملکی ملازمین کے حقوق کیا ہوئِے؟
ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا قانونی نظام ایسے آجروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنے تارکِ وطن ملازمین کو غلاموں جیسی زندگی گزارنےپر مجبور کرتا ہے۔

سعودی عرب کے اپنے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وہاں اسی سے نوے لاکھ غیر ملکی ملازمین کام کرتے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق برصغیر سے ہے اور جو اس کی ڈھائی کروڑ کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ سعودی عرب اس وقت بین الاقوامی دباؤ کا بھی شکار ہے کہ ملک میں سیاسی اور سماجی اصلاحات کی جائیں۔

کیا آپ متفق ہیں کہ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین کو ان کے انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے؟ کیا سعودی عرب کی معیشت ان کے بغیر چل سکتی ہے؟ کیا سعودی عرب کو اپنے باشندوں اور غیر ملکی ملازمین کو سیاسی حقوق دینے چاہئیں؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

ابو عمر، ٹورنٹو، کینیڈا:
میں چھ سال سعودی عرب میں رہا ہوں۔ سعودی عرب ترقی یافتہ ملک نہیں اور اتنے بڑے الزام لگانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ سعودی عرب ترقی میں پاکستان اور بنگلادیش کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ابھی جو لوگ امیر ہیں ان کے باپ دادا پچاس سال پہلے بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جدید مسائل جو بیرونی کارکنوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں ان کا قانون پوری طرح عمل پزیر نہیں اور لوگوں کی ذہنیت بھی ابھی جدید نہیں ہے۔ ہاں پیسہ بہت ہے اور لوگ اپنے خاندانوں کو ساری دنیا میں کما کر بھیج رہے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی اور برطانوی لوگ بھی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر وہاں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بیرونی ممالک سے آئے ہوئے کارکن جو کم اجرتوں پر کام کرتے ہیں کافی مشکلات میں ہیں اور اپنے ملک میں بھی ان کا حال برا ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ یہ حالات کافی پرانے ہیں لیکن جب امریکہ اور برطانیہ کو دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تو تب انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹیں نکلتی ہیں۔

محمد عمیر، شارجہ، عرب امارات:
سعودی عرب میں غیرملکیوں کو غلام سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے خلیجی ممالک میں سعودیہ کافی مشہور ہے۔ سعودی حکومت کو اپنے اس عکس کو بہتر کرنے کے لیے اس بارے میں کچھ سوچنا چاہیے۔

سہیل ہاشمی، لاہور، پاکستان:
سعودی حکومت (السعود خاندان) کو ہٹانا چاہیے۔

مہ جبین، پشاور، پاکستان:
جی ہاں۔ انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یہاں سے لوگ مزدوری کے لیے جاتے ہیں لیکن یہ غریب لوگوں کو سرے سے انسان ہی نہیں سمجھتے۔ بہت دکھ ہوتا ہے لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سعودی عرب کو تمام لوگوں کو حقوق دینے چاہیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ یہاں پر بادشاہت کے نظام کو ختم کر دینا چاہیے لیکن کون ایسا کرےگا یہ میں نہیں بتا سکتی۔

کامران حق، امریکہ:
ایسے حکمران جنہوں نے پیغمبر اسلام کی محبت کو شرک اور بدعت بنا دیا ہے ان سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں۔

شفیق احمد، سپین:
میری رائے میں سعودی حکومت پر عالمی دباؤ ڈالا جائے تا کہ وہ ان لوگوں کو انسان سمجھیں جو وہاں کام کے لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے۔ یہ بگڑی ہوئی قوم ہے اسی لیے تو اللہ کو وہاں نبی بھیجنا پڑا۔ لیکن وہ اللہ کے راستے پر نہیں چل رہے اسی لیے ان کا دنیا میں کوئی مقام نہیں۔

صلاح الدین لنگاہ، جرمنی:
ہماری رائے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ حبیب اور رفیق کے معنی نہیں جانتے۔ یہ الفاظ عربوں کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

عاصم ورک، امریکہ:
یہ ایک بدقسمتی ہے کہ ایک ترقی یافتہ ملک جہاں پر بے پناہ دولت ہے وہاں انسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔

جانوروں سے بدتر
 سیاسی حقوق سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے مگر اگروہ بنیادی انسانی حقوق نہیں دیتے تو وہ جانوروں سے بد تر ہیں۔
عمر فاروق، برمنگہم،انگلینڈ

عمر فاروق، برمنگہم،انگلینڈ:
ملک کے اندر غیرملکیوں کے لیے سیاسی حقوق سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے مگر اگروہ بنیادی انسانی حقوق نہیں دیتے تو وہ جانوروں سے بد تر ہیں۔وہاں پر مزدوروں کے لیے حالات ایسے ہیں جیسے پتھر کے زمانے میں تھے۔

طاہر محمود مغل، وزیرآباد، پاکستان:
ہاں یہ انسانوں کے ساتھ ایسے سلوک کرتے ہیں جیسے جانوروں کے ساتھ۔

نور الحق، دیر، پاکستان:
سعودی عرب کے حکمران مزدوروں کے ہی دشمن نہیں بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں اس لیے کہ اسلام نے ہر ایک کو مزدوری کا حق دیا ہے۔

سعد، لاہور، پاکستان:
ِاصلاحات ہونی چاہیں لیکن میڈیا ٹرائل ٹھیک نہیں ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال ، پاکستان:
اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر کے لوگ وہاں بہت کم اجرت پر محنت مزدوری کررہے ہیں۔ سعوری حکومت کی منفی پالسیوں کی وجہ سے بہت نقصان ہو رہا ہے۔ جہاں تک سعودی لوگوں کا تعلق ہے ان میں سے اکثریت کو شراب اور سیکس سے فرصت نہیں۔ اگر یہ غریب ملکوں کے لوگ نہ رہے تو پھر کچھ امریکہ کھا جائے گا اور کچھ اس طرح تباہ ہوجائیں گے۔ ان کو اپنی پالسی پر از سر نو غور کرنا ہوگا۔

جبار راؤ، ، پاکستان:
میں انسانی حقوق کی رپورٹ سے سو فی صد اتفاق کرتا ہوں کیونکہ میرا خاندان اس صورتحال سے گزر رہا ہے۔ میرے والد ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں رہے ہیں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔ دو سال پہلے جب انہیں دل کا دورہ پڑا تو وہ بڑی مشکل سے واپس پاکستان پہنچے۔ بیماری میں انہیں وہاں کسی ہسپتال میں علاج کی سہولت میسر نہ ہوئی بلکہ ان کے کفیل نے ان کی تین سال کی تنخواہ بھی روک لی جس کی وجہ سے ہم بالکل کنگال ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب صرف نام کی حد تک مسلمان ملک ہے جب کہ بہت سے غیر اسلامی ممالک میں غیر ملکیوں کو بہت سے انسانی حقوق حاصل ہیں۔

حارث، کراچی، پاکستان:
صرف سعودی عرب میں نہیں سب اسلامی ملکوں میں ظلم ہوتا ہے۔

تنویر اشرف، پاکستان:
یہ سو فی صد درست ہے۔صرف سعودی عرب میں نہیں بلکہ تمام مشرق وسطیٰ میں شیخ غیر ملکیوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ ان ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سفارت خانوں کے ذریعے ان مسائل کو اٹھائیں۔

خالد ملک، فیصل آباد، پاکستان:
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں۔ سعودی حکومت کو چاہیے کے ان کو پورا تحفظ اور پورے حقوق دے۔

احمد شاہ، دبئی، عرب امارات:
تمام مشرق وسطیٰ میں ایسی ہی صورتحال ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو دوسروں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ صرف سعودی عرب ہی کیوں؟

شعیب منیر، کراچی، پاکستان:
یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب بلکہ تمام عرب ممالک میں تمام کے تمام آجر مزدور چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو اسے غلام سمجھا جاتا ہے۔

غلام سمجھا جاتا ہے
عرب ممالک میں تمام کے تمام آجر مزدور چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو اسے غلام سمجھا جاتا ہے۔
شعیب منیر، کراچی، پاکستان

ثنا عثمانی، کینیڈا:
میری نظر میں کافی ایسے عیسائی لوگ ہیں جن کی عمر بھر کی کمائی سعودی کفیل نے چھین لی ہے۔ کیا یہ ایک اسلامی ملک ہے؟

کمال احمد منصور، فیصل آباد، پاکستان:
اسے کہتے ہیں کہ چراغ تلے اندھیرا۔

محمد بابا، کینیڈا:
بات یہ ہے کہ سعودی آج بھی چودہ سو سال پہلے والے اسلام کے دور میں رہ رہے ہیں۔جدید تعلیم کی کمی اور تیل کی دولت نے ان کے دماغ خراب کر دیے ہیں اور وہ کوئی بھی گناہ کرنے کے بعد زکواۃ اور حج کر کے آخری عمر میں جنت میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

آصف جاجا، ٹورنٹو، کینیڈا:
میں اس سے بالکل متفق ہوں۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اور میں نے خود وہاں پر لوگوں کو بہت برے حالات میں رہتے دیکھا ہے۔ بھارت اور دوسرے ملکوں کے لوگ کم پیسوں پر کام کرتے ہیں۔لیکن وہ وہاں پر خوش ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ اپنے ملکوں میں اس سے بھی کم کماتے ہیں۔

این ایچ، سعودی عرب:
یہ ایک غیراسلامی قانون ہے۔ پیغمبر اسلام نے ہمیں آزادی اور انسانیت کا درس دیا مگر یہ آمر حکمران ان کو نہیں مانتے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ رزق دینے والا ہے نہ کہ انسان۔

عراق کی طرح
 میرا خیال ہے کہ امریکہ کو سعودی عرب میں بھی عراق کی طرح کی کارروائی کرکے سعودی حکمران خاندان کو گرفتار کرنا چاہیے۔
محمود مغل، لاہور

محمود مغل، لاہور، پاکستان:
سعودی لوگ بہت ظالم ہیں۔گو سعودی عرب ایک مسلمان ملک ہے لیکن وہاں پر کوئی انصاف نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کو سعودی عرب میں بھی عراق کی طرح کی کارروائی کرکے سعودی حکمران خاندان کو گرفتار کرنا چاہیے۔

نامعلوم:
سعودی عرب جب تک امریکہ کا ساتھ دیتا رہے گا اس کو سو خون معاف۔

اے بی بی ڈی، سعودی عرب:
میں پچھلے چودہ سال سے مشرق وسطیٰ اور اب سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں۔ یہاں پر لوگ آزادی پر یقین نہیں رکھتے۔ پیغمبراسلام نے انسانیت کو آزادی دی۔ تاریخ میں پہلی دفعہ اسلام میں ایک غلام کو آزادی دی گئی۔ مگر پتہ نہیں یہ لوگ ان اسلامی اقدار اور قوانین پر کیوں ایمان نہیں رکھتے۔اگر سعودی حکومت اپنے لوگوں کو آزادی دے دے تو یہ دنیا میں ایک طاقتور ملک بن جائے گا۔ آزادی دو اور ترقی لو۔

ذوالفقار خان، کوہاٹ، پاکستان:
میں سعودی عرب میں کام کر رہا ہوں۔ سعودی لوگ پاکستانیوں اور بنگلادیشیوں کے ساتھ بہت زیادتی کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ مسلمان ہیں؟

خورشید احمد، خوشاب، پاکستان:
امریکہ اور مغرب میں مسلمانوں پر اس سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے کیا وہ آپ کو نظر نہیں آتا۔

خانزادہ، مینگورا، پاکستان:
سعودی حکومت کا قانون اور انصاف انسانی حقوق پر مبنی نہیں ہے۔ ہم اس قانون کی مذمت کرتے ہیں۔

نوشیروان، راولپنڈی، پاکستان:
سعودی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ باقی لوگوں سے اعلیٰ مخلوق ہیں اسی لیے وہ ایسے کام نہیں کرنا چاہتے جو غیر ملکی کرتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ سعودی حکومت بڑی کمپنیوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ سعودی لوگوں کو ملازمتیں دیں لیکن یہ کمپنیاں غیر ملکی کارکنوں کو ترجیح دیتی ہیں اس لیے کہ سعودی لوگ کام چور ہیں۔اسی وجہ سے سعودی حکومت غیر ملکی لوگوں پر انحصار کرتی ہے۔اب ضروری ہے کہ سعودی لوگ اپنے رویے کو بدلیں۔

ساجد خان، پنجاب، پاکستان:
ہاں سعودی عرب کو غیرملکیوں کی حفاظت کے لیے بھی کچھ قانون بنانے چاہیں۔ سعودی عرب کی نئی نسل غربت کا شکار ہو رہی ہے مگر اس کی عیاشی کی عادت اب بھی موجود ہے۔ جب ان کے پاس پیسے ختم ہوجاتے ہیں تو وہ غیر قانونی کام کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ میرے خاندان کے کئی لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔کئی سعودی نوجوان ان کے پاس آتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں مگر سعودی پولیس غیر ملکیوں کو ہی پکڑتی ہے چاہے قصور سعودی باشندوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ میرے بھائی اور چچا سعودی عرب میں ورکشاپ اور سٹور چلا رہے ہیں سعودی لوگ ان کو بہت تنگ کرتے ہیں۔ کئی دفعہ چیزیں خرید کر پیسے نہیں دیتے جب ان سے پیسوں کا تقاضہ کریں تو لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی قانون صرف سعودی باشندوں کا تحفظ کرتا ہے۔غریب ملکوں سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی پانچویں درجے کے شہری ہیں۔ یورپی باشندوں کو پھر بھی کچھ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد