BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 June, 2004, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تم مسلمان ہو یا کافر؟‘
News image
مسلح افراد نے غیر مسلموں کو نشانہ بنایا
سعودی عرب کے شہر الخبر میں ایک دن یرغمال رہنے والے اپنی سرگزشت سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مسلح افراد کس طرح غیرملکیوں کی تلاش میں گھر گھر گئے۔

یہ لوگ احاطے کہ اندر غیرمسلموں کو تلاش کرتے رہے۔ اس واقعہ میں بائیس افراد ہلاک ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ مکینوں سے پوچھتے تھے کہ کیا وہ مسلمان ہیں یا عیسائی۔ شدت پسند کہتے: ’ہم مسلمانوں کو نہیں مارنا چاہتے‘۔

ایک لبنانی خاتون نے بتایا کہ وہ چار سالہ بیٹے کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ میں چھپی رہیں لیکن پھر شدت پسندوں نے انہیں ڈھونڈ نکالا۔ اس نے ان مسلح افراد کو بتایا: ’میں لبنانی ہوں اور یہاں کوئی غیرملکی نہیں ہے‘۔

اس کا کہنا تھا کہ پھر شدت پسندوں نے اس سے کہا: ’مسلمان ہوجاؤ، پردہ کرو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ‘۔

ایک عراقی نژاد امریکی انجنیئر ابو ہاشم کا کہنا تھا کہ جب وہ دفتر جانے کے لیے نکلے تو انہوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی، لہذا وہ گھر لوٹ آئے اور اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر پڑوسی کے ہاں جاکر پناہ لی۔

ابو ہاشم بتاتے ہیں کہ وہ محافظوں کی تلاش میں نکلے تو انہیں چار مسلح افراد نظر آئے جنہیں انہوں نے محافظ سمجھا مگر یہ ان کی غلطی تھی۔

ابو ہاشم کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں ثبوت مانگا۔ انہوں نے بتایا: ’انہوں نے کہا کہ میں امریکی ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں امریکی مسلمان ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو نہیں مارنا چاہتے اور گھر میں گھس آنے پر معافی مانگی‘۔

ابو ہاشم نے بتایا کہ ان لوگوں نے انہیں اسلام کے بارے میں لیکچر دیا اور کہا کہ وہ ان کے ملک کو کافروں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جس وقت وہ مسلح افراد سے گفتگو کر رہے تھے تو انہیں ایک باورچی کا لاش نظر آئی جو غیرمسلم تھا۔

ابو ہاشم کے مطابق ان لوگوں کا رویہ مسلمانوں سے اور تھا اور غیر مسلموں کے ساتھ الگ۔

ایک اور شخص ابو سلام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک شدت پسند کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ مسلمانوں کا گھر ہے کیونکہ دیواروں پر قرآنی آیات نظر آ رہی ہیں۔

ابو سلام نے کہا کہ ایک نوجوان جو مشین گن لیے ہوئے تھا اوپر آیا اور کہا کہ وہ لوگ مغربی شہریوں کو ڈھونڈ رہے ہیں لہذا انہیں بتایا جائے کہ وہ کہاں ملیں گے۔

ایک عیسائی نیازر ہیجازین نے بتایا کہ انہوں نے مسلح افراد کو بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور انہیں اپنے دوست کا قرآن دکھایا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد