کمانڈو آپریشن : یرغمالی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الخبر میں سعودی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں سے بہت سے غیر ملکی یرغمالیوں کو رہا کرلیا ہے تاہم کچھ یرغمالیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ سعودی کمانڈوز نے اتوار کی صبح اس عمارت پر ہلہ بول دیا تھا جس میں شدت پسندوں نے چالیس سے پچاس غیر ملکیوں کو یر غمالی بنا رکھا تھا۔ سعودی حکام نے اس کمانڈوز آپریشن کے بارے کوئی تفصیل جاری نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ بہت سے یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ سعودی کمانڈوز کو اتوار کی صبح ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس عمارت کی چھت پر اتارا گیا تھا جہاں شدت پسندوں نے غیر ملکیوں کو یرغمالی بنا رکھ تھا۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق آپریشن سے پہلے ہی شدت پسندوں نے کئی یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق شدت پسند اس آپریشن میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے بھی کچھ یرغمالیوں کے ہلاک ہو نے کا اطلاع دی تھی۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ بندر بن سلطان نے کہا تھا کہ سعودی حکام کو اس وقت کارروائی کرنی پڑی جب شدت پسندوں نے یرغمالیوں پر تشدد شروع کر دیا تھا۔ شہزادہ بندر بن سلطان کے مطابق ایک شدت پسند ہلاک ہو گیا کیونکہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر عمارت کے احاطے میں داخل ہونا چاہتا تھا اور عمارت کے گرد پہلے ہی حفاظتی دستے تعینات تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کے خیال میں بعض حملہ آوروں کا القاعدہ کے ساتھ تعلق ہے۔ اتوار کی صبح پچاس کے قریب کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس عمارت کی چھت پر اتارا گیا تھا۔ امریکی سفارتخانے نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک سے نکل جانے کو کہا ہے جبکہ برطانوی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ضروری کام کے وہاں کا سفر نہ کریں۔ ایک بیان میں جس کے بارے میں خیال ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم نے جاری کیا ہے، اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا یہ بیان جو القدس نامی تنظیم سے منسوب ہے کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو سعودی دولت نہیں لوٹنے دی جائے گی۔ ان شدت پسندوں کی تعداد پانچ بتائی گئی ہے جنہوں نے پہلے ٹریفک پر فائرنگ کی اور اس کے بعد اوئسِس نامی رہائشی احاطے میں گھس گئے۔ اس احاطے میں غیرملکی تیل کمپنیوں کے دفاتر اور ان ملازمین کے گھر واقع ہیں۔ ان شدت پسندوں نےپہلے پانچ لبنانی شہریوں کو پکڑ لیا تھا تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا۔ جبکہ کمپاؤنڈ کے منیجر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے قبضہ میں اب تک پچاس افراد موجود ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسلح افراد فوجی یونیفارم کی طرز کا لباس پہنے ہوئے تھے اور یہ کہ اس کارروائی میں دو گاڑیاں استعمال کی گئی ہیں۔ احاطے میں مقیم ایک امریکی خاتون جنہوں نے الماری میں چھپ کر جان بچائی، اپنے موبائل فون کے ذریعہ امریکہ میں رشتہ داروں کو فون پر اس واقع کی تفصیلات بتائیں۔ اس ماہ کے اوائل میں ینبوع میں کئے گئے ایک حملے میں پانچ غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت ریاض میں جرمنی کا ایک باشندہ ہلاک ہو گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فوج اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان اسی طرح کی کئی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ شدت پسند بالعموم سعودی عرب میں واقع مغربی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔ مشرق وسطی میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ شدت پسند تیل کی صنعت میں کام کرنے والے غیرملکیوں کو خوفزدہ کر کے سعودی شاہی خاندان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ الخبر شہر دارالحکومت ریاض کے شمال مشرق میں چار سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||