الخبر محاصرہ، شکوک و شبہات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکام نے الخبر میں بائیس یرغمالیوں کو ہلاک کر کے فرار ہونے والے تین مسلح شدت پسندوں کی تلاش کا کام بڑے پیمانے پر شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے مشرقی شہر الخبر میں تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے اور شہر سے جانے والوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ تاہم ان کے فرار کے بارے میں مختلف اطلاعات ملی ہیں۔ سعودی حکام کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کے سرغنہ کو، جو زخمی ہوگیا تھا گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن اس کے تین ساتھی یرغمالیوں کو ڈھال بنا کر محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہوگئے اور فرار ہوگئے۔ اس کے برعکس ایک یرغمالی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو اس شرط پر بھاگ نکلنے کا موقع دیا گیا کہ وہ عمارت کو یرغمالیوں سمیت دھماکے سے نہ اڑائیں۔ سعودی حکام کے مطابق اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بائیس افراد میں سے زیادہ تر عرب اور ایشیائی باشندے ہیں جبکہ مغربی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سعودی حکام نے اتوار کو پچاس غیر ملکیوں کو چھڑانے کے لیےکئے گئے کمانڈو آپریشن کا بھر پور دفاع کر تے ہوئے اسے ایک کامیاب ترین آپریشن قرار دیا ہے۔ رہائی پانے والے چند یرغمالیوں نے کہا کہ سعودی کمانڈوز کے پہنچنے سے پہلے نو یرغمالیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی جنہیں شدت پسندوں نے ان کے گلے کاٹ کر ہلاک کر دیا۔ احاطہ میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے مسلمانوں اور غیرمسلموں کو یہ کہہ کر الگ کر دیا تھا کہ وہ صرف امریکیوں اور مغربی شہریوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ القاعدہ سے منسوب ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ چار مجاہدین نے کیا تھا جو مسلمانوں کے خون میں ہاتھ نہیں رنگنا چاہتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||