BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 November, 2003, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاتھ، پاؤں نہ کاٹے جائیں
حدود قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے
حدود قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے

پاکستان کی شرعی عدالت نے جمعرات کو چار چوروں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی سزا ختم کر دی ہے اور ان کو گیارہ سال کا مسلسل قید کے بعد رہائی کا حکم دیا۔

پاکستان میں پچھلے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے ملک میں مختلف اسلامی قانون نافذ کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا جس کے تحت چور کے دائیں ہاتھ کو کلائی سے اور بائیں پا‎ؤں کو ٹخنے سے کاٹ دیۓ جانے کا حکم ہے۔

پاکستان کی اعلی عدالتوں نے بہت کم لوگوں کو اس قانون کے تحت سزائیں دی ہیں، لیکن اعلی عدالتوں تک پہچنے سے پہلے ملزم اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزار دیتے ھیں۔

چار ملزموں ، خالد محمود ، اظہر حسین ، ظفر حسین اور پرویز اقبال پر الزام تھا کہ انہوں نےمئ انیس سو بانوے میں حبیب بینک فلیمنگ روڈ لاہور پر ڈاکہ ڈالا، اور بینک سےاٹہتر ہزار روپے چوری کیے۔

لاہور کی ایک سیشن عدالت نے نو سال تک کیس کو اپنے پاس رکھنے کے بعد مارچ دو ہزار ایک میں ان کو مجرم قرار دے کر ان کو دائیں ہاتھ کلائی سے اور بائیں پاؤں کو ٹخنے سے کاٹ دینے کا حکم سنایا۔

وفاقی شرعی عدالت کے ایک بینچ جس کی سربراھی ، چیف جسٹس اعجاز یوسف نے کی ، اپیل کی سماعت کرتے ھوئے، حد کی سزا ختم کر کے اس کو تعزیر میں تبدیل کر دیا، جس کے مطابق اب ملزمان کو قید کی سزا برقرار رہے گی۔

ملزمان کے وکیل ، ڈاکٹر سہیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کے موکل پہلے دس سال سے زیادہ سزا کاٹ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر جیل کے قوانین کی روشنی میں اس کے موکل کم از کم بیس سال سزا کاٹ چکے ھیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ اس مقدمے میں گواہی اسلامی معیار ، یعنی تزکیہ تل شہود ، پر پورا نہیں اترتی، لہذا ان کی سزا کو تعزیر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

حد یعنی ایسی سزا جو کسی جرم کے بارے میں قرآن مجید میں تجویز کی گی ھو، کو گواہی کے بہت سخت معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ حد کی سزا کے لیے ایسے گواہ کی ضرورت ھوتی ہے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ھو۔

جنرل ضیاالحق کی طرف سے نافذ کردہ اسلامی قوانین کو ‏غلط استعمال کرنے کی شکایت عام ھیں، اور یہ مطالبہ ضرور پکڑ رھا ہے کہ حددود کے قوانین کو ختم کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد