وزن گھٹاؤ یا ’نیچے‘ جاؤ: ائر انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی سرکاری ائر لائن ’ائر انڈیا‘ نے جہاز پر کام کرنے والے عملے کو وزن کم کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی ہے۔ ادارے کے ’کیبن کریو‘ کی تعداد سولہ سو ہے جس میں سے ایک اندازے کے مطابق دس فیصد لوگ موٹاپے کا شکار ہیں۔ ائر انڈیا کے جنرل مینجر برائے تعلقات عامہ ایس وینکٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ادارہ ان احکام پر سختی سے عمل درآمد کروائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک حد مقرر کر دی ہے جس سے تجاوز کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ ائر لائن کے حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مسابقت کے اس دور میں اس فیصلے سے ادارے کے امیج کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حفاظتی اقدامات کے لحاظ سےائر انڈیا کا ریکارڈ بہت اچھا ہے لیکن یہ بھدے جہازوں، وقت کی پابندی نہ کرنے اور خدمات کے خراب معیار کی وجہ سے بدنام بھی ہے۔ تاہم بھارت کی ائر لائن کی صنعت میں حالیہ تیزی اور نجی اداروں کے ساتھ مقابلے کی وجہ سے خدمات کے معیار میں اضافہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میں نجی کمپنیوں کی طرف سے کم کرایوں اور پر کشش سٹاف کی وجہ سے بھارت کی اس سرکاری ائر لائن نے بہت سی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کی ہوابازی کی صنعت جو اس وقت سالانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مسافروں کو خدمات مہیا کر رہی ہے 2010 تک مسافروں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
اس بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ائر انڈیا نے اس سال اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دس سال میں امریکی کمپنی بوئنگ سے اڑسٹھ نئے جہاز خریدے گی۔ ایس وینکٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے کام کو پھیلا رہے ہیں اور ہمیں مزید سٹاف کی بھی ضرورت ہے‘۔ لیکن ان نئے لوگوں کو بھی وزن کے معیار پر پورا اترنا ہو گا جسے ائر لائن کی انشورنس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ جہاز پر کام کرنے والے عملے نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کی تنظیم کے ترجمان راجو جوشی نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری حفاظت کے لیے ہی ہے‘۔ بھارتی قانون کے مطابق جہاز پر کام کرنے والے سٹاف میں خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد پچاس سال جب کہ مردوں کے لیے اٹھاون سال ہے۔ زیادہ عمر کے لوگوں کا وزن کم عمر لوگوں کی نسبت زیادہ ہے ۔ ائر انڈیا کے ایک ترجمان جی پرشاد راؤ کا کہنا ہے کہ ’ذرا سوچیں کہ جو عملہ اپنے حفاظتی بند نہ باندھ سکے وہ جہاز کیسے لے جائے گا؟‘ ائر لائن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال بہت جلد بدل جائے گی۔ |
اسی بارے میں ائیر انڈیا کیس: ملزمان بے قصور17 March, 2005 | آس پاس ائیر انڈیا دھماکہ، فیصلہ بدھ کو14 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||