ائیر انڈیا کیس: ملزمان بے قصور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں ایک عدالت نے ان دو سکھوں کو بےقصور قرار دیا ہے جن پر بیس برس پہلے ائیر انڈیا کے ایک جہاز کو بم سے اڑانے کا الزام تھا۔ ائیر انڈیا کی فلائیٹ 182 کو انیس سو پچاسی میں آئیر لینڈ کی سرحد کے قریب ہوا میں بم سے اڑا دیا گیا تھا جس سے اس میں سوار تین سو انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے ہوائی جہازوں پر کئی جانے والا سب سے بڑا حملہ تھا اور یہ مقدمہ کینیڈا کی تاریخ کا مہنگا اور پیچیدہ ترین مقدمہ تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ رپودمن سنگھ ملک اور عجائب سنگھ بھاگڑی کے خلاف یہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ یہ دونوں جہاز کو اڑا کر انڈیا سے سکھوں کے خلاف کی جانے والی زیادتی کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ رپودمن سنگھ ملک اور عجائب سنگھ بھاگڑی کو سن دو ہزار میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہ مسلسل ان الزامات سے انکار کررہے تھے۔ عدالت نے کہا کہ دونوں افراد کے خلاف پیش کی جانے والی شہادتوں پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچے جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جہاز کو بم سے اڑانے کے واضح محرکات موجود ہیں لیکن ناکافی ثبوت کی بنا پر یہ الزام ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ جج نے اس بات کو بھی دہرایا کہ اس حملے کے لئے کینیڈا کے شہر وینکووور میں سازش تیار کی گئی تھی۔ کینیڈا میں حکام نے پندرہ برس کی تفتیش کے بعد تیرہ ماہ کے عرصے میں عدالت کو ثبوت پیش کئے تھے۔ اس حملے میں مرنے والوں کے رشتہ داروں نے اس فیصلہ پر غم کا اظہار کیا ہے اور کئی افراد کو فیصلہ سن کر بہت حیرانی بھی ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||