| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصری طیارہ: لاشوں کی تلاش جاری
ہفتے کے روز بحیرہ احمر میں گر تباہ ہونے والے مصری طیارے کے مسافروں کی لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ حادثے میں ایک سو اڑتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک سو تینتیس فرانسیسی، ایک ایک جاپانی اور مراکشی اور تیرہ افراد پر مشتمل جہاز کا مصری عملہ شامل ہیں۔ تباہ ہونے والے بوئنگ سات سو سات کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا ڈھانچہ سمندر کی تہہ میں ایک ہزار میٹر کی گہرائی میں پڑا ہے۔ دریں اثناء مصری حکام کے مطابق قوی امکان ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔ مصر کے ہوابازی کے وزیر احمد شفیق نے عینی شاہدوں کے حوالےسے بتایا کہ طیارہ سالم حالت میں سمندر میں گرا۔ احمد شفیق کے مطابق طیارہ ایک ہزار میٹر تک فضا میں بلند ہوا اور پھر کچھ ہی سیکنڈوں میں سمندر میں گر گیا۔ فرانس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر نے کہا ہے کہ ’ ہمارے خیال میں یہ ایک حادثہ تھا اور جہاز کی تباہی کی کسی اور وجہ کے شواہد نہیں ملے‘۔ اس حادثہ میں کئی خاندان مکمل طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ امدادی عملہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو شارک مچھلیوں سے بچانے کوشش کر رہا ہے۔ مرنے والوں کے عزیز و اقارب کو شرم الشیخ کے ہسپتال میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں انہیں بتایا جا رہا ہے کہ سمندر سے صرف انسانی اعضا برآمد ہوئے ہیں اور ان کے لئےلاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طیارہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور بحیرہ احمر کے شہر شرم الشیخ کے درمیان ریڈار کی پہنچ سے غائب ہو گیا تھا۔ طیارے میں سوار فرانسیسی سیاح چھٹیاں منا کر گھر جا رہے تھے۔ مسافروں نے قاہرہ سے ہوتے ہوئے پیرس جانا تھا۔ قاہرہ میں جہاز کا عملہ تبدیل ہونا تھا۔ طیارہ مصر کی ایک نجی کمپنی ایئر فلیش کی طرف سے چارٹر کیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا ہے کہ طیارے کا ملبہ شرم الشیخ سے پندرہ کلومیٹر دور دیکھا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||