دلّی شدید سردی کی لپیٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دارالحکومت دلّی سمیت پورے شمالی ہندوستان میں سردی کا قہر جاری ہے اور شمالی ہندوستان میں اب تک سردی سے 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اتوار کی صبح دلی میں درجہ حرارت 0.2 ڈگری تک پہنچ گیا۔ بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ 70 برس میں یہ دلی کا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔ محکمۂ موسمیات کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس سی بھان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’اس سے قبل 16 جنوری1935 میں دلی کا درجہ حرارت 0.6 - سنٹی گریڈ درج کیا گیا تھا اور اتوار 8 جنوری کی صبح پانچ اور چھے بجے کے درمیان 0.2 ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت درج کیا گیا ہے‘۔ مسٹر بھان نےاس بات سے انکار کیا ہے کہ دلی میں برف گری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ برف نہیں ہے بلکہ درجہ حرارت کم ہونے کے سبب اوس جم گئی ہے اور وہ دیکھنے میں برف لگ رہی ہے‘۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ دو تین روز ميں دلّی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا اور سردی سے کچھ راحت مل سکے گی۔ دلی میں گزشتہ تین چار روز سے برفیلی ہوائيں چل رہی ہیں۔ شدید سردی کے سبب ریاستی وزیرِ تعلیم کے امرندر جولی نے شہر کے سبھی پرائمری سکول بدھ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دلّی شہر میں شدید سردی تو جاری ہے لیکن لوگوں کو کہر سے نجات مل گئی ہے۔ کہر نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً سبھی پروازوں کی آمدورفت وقت پر ہو رہی ہے اور ٹرینیں بھی طے شدہ وقت کے مطابق چل رہی ہیں۔ جموں کشمیر سمیت اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان کے شمالی علاقوں میں بھی شدید سردی جاری ہے۔ ان تمام علاقوں میں درجہ حرارت ایک سے سات ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز سری نگر میں درجہ حرارت منفی2.4 اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں 4.0، چندی گڑھ میں 1.3، دہرا دون میں 4.0 اور جےپور ميں درجہ حرارت 3.6 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||