چائے کے باغات میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں چائے کے باغات میں کام کرنے والوں کی ہڑتال سے چائے کی پیداور بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ان باغات میں کام کرنے والے تقریباً پانچ لاکھ افراد نے ہڑتال شروع کی ہے۔ ریاست کے ساڑھے تین سو باغات میں اب کام بند ہے۔ یہ ہڑتال انتظامیہ اور یونینز کے درمیان مذاکرات کی نا کامی کے بعد شروع کی گئی ہے۔ یونینز کا مطالبہ تھا کہ کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تاہم انتظامیہ کہتی تھی کہ تنخواہوں کو پیدواوار سے جوڑا جائے۔ یونینز کو یہ پیشکش منظور نہیں تھی کیونکہ بقول انکے اس سے مزدوروں میں تفریق اور اختلاف پیدا ہوتا۔ چائے کی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال سے بنگال کی چائے کی صنعت بہت بری طرح متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال پڑوسی ریاست آسام تک بھی پھیل گئی تو حالت بے حد خراب ہو جائیں گی۔ لیکن آسام میں ہڑتال کا قوی امکان ہے کیونکہ آسام کے چائے باغات میں کام کرنے والوں کی یونین اور ائی ٹی اے کے درمیان مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں۔ بھارت کی کُل چائے کی پیداوار کا پچاسی فیصد حصہ ان دونوں ریاستوں سے آتا ہے۔ ملک کی چائے کی ایسو سییشن (آیی ٹی اے) کے صدر پی کے بھٹہ چاریا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ہڑتال سے صنعت کو ہر روز دس کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کی وجہ سے بنگال کی چائے خاص طور پر ڈارجیلنگ چائے نیلامی میں نہیں دستیاب ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||