مغربی بنگال: چائے کے باغات میں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے افراد گیارہ جولائی سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال شروع کریں گے۔ ان ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں تقریباً پچاس فیصد اضافہ کیا جائے لیکن باغات انتظامیہ کی تنظیم نے جواب میں کہا ہے کہ تنخواہوں کو ہر فرد کے کام سے جوڑا جائے۔ تاہم چائے کے باغات میں کام کرنے والوں کی یونینز کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل قبول پیشکش ہے۔ یونینز نے باغات کے مالکان کی تنظیم سے مذاکرات کی نا کامی کے بعد ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ مالکان کی تنظیم ریاست کے ساڑھے تین سو سے زیادہ باغات کی نمائندگی کرتی ہے۔ مالکان کی تنظیم کا کہنا ہے کہ چائے کی صنعت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے اور چائے کی نیلامیوں میں بھی قیمت کم مل رہی ہے۔ لیکن یونینز کا کہنا ہے کہ صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے اور ساڑھے تین سو باغات میں سے صرف انتیس کو بند ہونا پڑا ہے۔ یونین کے رہنما منوہر تِرکی کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال واقعی تشویشناک ہوتی تو اس سے کہیں زیادہ باغات بند ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ چائے باغات کی تنظیم کا تنخواہ کو پیداوار سے جوڑنے کا مطالبہ یونینز کو نا قابل قبول ہے۔ چائے کی صنعت مغربی بنگال کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ تاہم سوویت یونین کے خاتمے کے بعد چائے کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے چائے کی صنعت کو نقصان پہنچا ہے۔ مغربی بنگال کے چائے کے باغات میں کام کرنے والوں کے حالات میں بھی گزشتہ برسوں میں بد تری ہوئی ہے اور کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ بھوکے مر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||