بھارت: دس لاکھ ملازمین کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے دس لاکھ ملازمین ہڑتال کے حق کے خلاف دیے جانے والے عدالتی فیصلے کے خلاف اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے منگل کو ایک روزہ ہڑتال کی۔ اس ہڑتال کی وجہ سے ان سرکاری اور نیم سرکاعری اداروں کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازین کو ہڑتال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ان کی ہڑتال سے دوسرے شہریوں کو تکلیف ہوتی ہے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ بھارت میں سرمایہ کاری کے ایک مشاورتی ادارے انڈین ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکٹو افسر وجے بھمبوانی نے بی بی سی آن لائن کو بتایا ہے کہ ہڑتال نے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ’ہڑتال نے بڑی حد تک مالیاتی مارکیٹ کو مفلوج کر دیا ہے۔‘ وجے ھمبوانی کا کہنا تھا کہ منگل کو نہ تو سرمائے کا کوئی لین دین ہوا، نہ چیک کیش ہوئے اور نہ ہی کوئی اور مالیاتی ٹرانزکشن ہوئی۔ خبر رسان ادارے ایسو سی ایٹیڈ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مغربی مالیاتی دارالحکومت ممبئی بھی جزوی طور پر بند رہا اور تقریباً تمام مالیاتی ادارے بند رہے۔ بنگلور میں بھی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز ہے سرکاری اداروں میں کام نہیں ہوا۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر مغربی بنگال میں جہاں کیمونسٹ حکومت ہے، دیکھا گیا۔ مغربی بنگال میں تمام پروامیں بند رہیں، کوئی ریل نہیں چلی اور نہ ہی سرکوں پر کوئی بس دیکھنے میں آئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||