چائے یاداشت بڑھائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا ہے کہ چائے مضرِصحت ہے لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق یاداشت بڑھانےکے لیے چائے کا استعمال مفید ہے۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو چائے سے ایلزائمرز کے مرض کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔ برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے مطابق سبز اور کالی چائے انسانی دماغ میں پائے جانے والے ان اینزائمز پر اثر انداز ہوتی ہے جن کا تعلق یاداشت سے ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ چائے کا انسانی دماغ پر اثر ان ادویات جیسا ہوتا ہے جو کمزور یاداشت کے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ کالی اور سبز چائے دماغ میں موجود ایسیٹائیلکولین ایسٹیریس اور بیوٹائیرائلکولین ایسٹیریس نامی اینزائمز پر قابو پانے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ اینزائمز یاداشت کو کمزور کرتے ہیں۔ ایلزائمرز کے مرض میں مبتلا لوگوں کے دماغ میں ایسیٹائکولین نامی کیمیائی مادے کی کمی ہو جاتی ہے۔ چائے اس اینزائم کے لیے مفید ہوتی ہے جو اس مادے کو دماغ میں پھیلنے میں مدد دیتا ہے اور اس طرح یاداشت میں بہتری پیدا کرتی ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بطور دوا سبز چائے کالی چائے پر قدرے سبقت لے جاتی ہے کیونکہ سبز چائے اس کیمیائی مادے پر بھی قابو پاتی ہے جو انسانی دماغ میں ایسی پروٹین پیدا کرتا ہے جو ایلزائمرز کے پھیلنے میں مددگار ہوتی ہے۔ کالی چائے اس مادے پر صرف ایک دن تک ہی قابو رکھتی ہے جبکہ سبز چائے ایک ہفتے تک۔ اگرچہ ایلزائمرز ابھی ایک لاعلاج مرض ہے لیکن چائے کے بارے میں نئی تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ شاید مستقبل میں چائے کے ذریعے اس موذی مرض میں مبتلا لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||