مغربی بنگال: قبیلے کی بھوک ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں راج بونگشی قبیلے کے تقریبا دس ہزار افراد نے علیحدگی کے لیے شروع کی گئی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ سینئر مقامی افسر رویندر سنگھ نے بتایا کہ کمیونٹی کے رہنماؤں سے حکام کی ملاقات کے بعد ایک جداگانہ قبائلی ریاست کے ان کے مطالبے کو دہلی بھیج دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پندرہ اکتوبر تک جواب دے دیا جائے گا۔ ریاست کے چیف منسٹر بدھادیو بھتاچاریہ سنیچر کو کوچ بہار کا دورہ کر رہے ہیں۔ ہڑتالیوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق شمالی بنگال ، بنگلہ دیش سے ملنے والے دو اضلاع اور بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام سے ملنے والے اضلاع سے ہے۔ ہڑتالیوں کے ترجمان بانشی بدن برمان کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے مثبت جواب کے بعد انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مرکزی حکومت نے ان کے مطالبات کو پورا نہیں کیا تو بھوک ہڑتال دوبارہ شروع کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے پولیس کی ہڑتالیوں پر فائرنگ سے ایک سینئر پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ راج بونگشی بادشاہوں نے بھارت کی مشرقی ریاست کوچ بہار پرحکومت کی ہے۔ انیس سو سینتالیس میں برطانوی استعمار کے بعد انڈیا سے الحاق کے وقت تری پورہ اور مانی پور کی طرح یہاں بھی بادشاہت تھی۔ تری پورہ اور مانی پور کی طرح یہاں کی کچھ کمیونٹیاں بھی بادشاہ کے انڈیا سے الحاق کے خلاف تھیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بادشاہ کے اس فیصلے سے ریاست کی جداگانہ حیثیت ختم ہوگئی جس کا ذکر کم از کم برطانوی کاغذات میں ملتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||