BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 September, 2005, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پل ٹوٹ گیا،33 ہلاکتوں کا خدشہ
پل
خدشہ ہے کہ زیادہ تر لوگ دریا کے برفیلے پانی کا شکار ہوگئے ہیں
شمالی بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں ایک دریا پر قائم پل ٹوٹنے سے خدشہ ہے کہ تینتیس فوجی ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوجی پل کی مرمت کر رہے تھے کہ پل ٹوٹ گیا اور یہ فوجی دریا کے یخ پانی میں جا گرے۔

حکام کے مطابق مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور خراب موسم کی بناء پر امدادی کارروائیوں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

کرنل انوراگ بھسین نے بی بی سی کو بتایا کہ’ اگرچہ ہمیں مرنے والوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں لیکن خدشہ ہے کہ زیادہ تر لوگ دریا کے برفیلے پانی کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ اس مقام پر دریا نہ صرف بہت گہرا ہے بلکہ اس کا بہاؤ بھی بہت تیز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ہوائی جہازوں کی مدد سے چندی گڑھ سے امدادی ٹیمیں کِنّور روانہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن موسم ہمارا ساتھ نہیں دے رہا‘۔

کِنّور ضلع میں جون کے مہینے میں اس وقت شدید سیلاب آ گیا تھا جب ایک جھیل کا پانی اپنے کناروں کو توڑ کر باہر نکل آیا تھا۔ سیلابی پانی نے علاقے کی زیادہ تر سڑکوں اور پلوں کو تباہ کر دیا تھا اور تب سے یہ علاقہ باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد