BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممـبئی میں بارش کا قہر جاری

News image
ممبئی سمیت مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں بارش کا قہر جاری ہے۔ منگل 26 جولائی سے پورے مہاراشٹر میں سیلاب نے 891 سے زیادہ لوگوں کی جانیں لے لیں ہیں۔ اور ابھی تک کئی علاقوں میں لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔

ملک کا تجارتی دارالحکومت ممبئی اس وقت شدید بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ منگل اور بدھ کو قیامت خیز بارش کے بعد تین دن بارش معمول پرتھی لیکن اتوار کی صبح سے ایک بار پھر حالات خراب ہوگئے ۔ دھاروی ، چاندی ولی ، چیمبور ، گھاٹ کوپر ، کنگ سرکل ، دادر ، پریل کے علاقوں میں بارش کا پانی دوبارہ بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ پانی بھرنے کے سبب ایک بار پھر لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلنے لگے ہیں۔

پولیس کمیشنر اے این رائے اور ٹریفک کمیشنر ستیش ماتھر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں کیونکہ اگر ایک بار پھر ٹریفک جام ہو گیا تو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

منگل کی طوفانی بارش کے بعد سیلاب کی وجہ سے کرلا ، ساکی ناکہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی تھی اور وہاں عوام بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی بوند کو ترس رہے تھے۔ گھبرائے ہوئے پریشان حال عوام نے جگہ جگہ راستہ روکا اور انتظامیہ پر پتھراؤ بھی کیا ۔

کرلا کے بعض علاقوں میں چٹانیں کھسکنے اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں افراد کے اب بھی ملبہ میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ تقریباً 101 لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔ فائر بریگیڈ عملہ کا کہنا ہے کہ اب اتنے دنوں کے بعد کسی کے زندہ ہونے کے امکانات کافی کم ہیں اس لئے اب ملبے کو برابر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔

اپنی خوبصورتی کے لئے مشہور ممـبئی کا چہرا اس وقت بدنما ہو چکا ہے۔ سڑکوں پر اب بھی انسانوں اور جانوروں کی لاشیں ایک ساتھ پڑی ہوئي ہیں۔ کوڑے کے انبار موجود ہیں۔ عوام گندہ پانی پینے کے لئے مجبور ہیں گھروں میں راشن نہیں ہے۔ بازار میں سامان کی قیمتوں میں تین سے چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ لوگ اب بھی اپنے گم شدہ رشتے داروں کو ڈھنڈ رہے ہیں۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کا متعلقہ محکمہ کوڑے کا انبار اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ میونسپل کمشنر جونی جوسف کا دعوی ہے کہ بی ایم سی یعنی بمبئی میونسپل کارپوریشن نے 90 فی صد کچرا اٹھا لیا ہے۔ ممبئی ہر سال تقریبا 50000 کروڑ روپے کا ٹیکس دیتا ہے۔

سنٹرل ریلوے کی پٹریوں پر پانی بھر چکا ہے ۔اس لئے سنٹرل ریلوے کی سروس بند کر دی گئی ہے ۔ ٹریفک نظام درہم برہم ہونے کے بعد لوگ اپنی گاڑیاں سڑک پر چھوڑ کر پیدل اپنے گھروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گھروں میں پانی بھر جانے کے سبب لوگوں کا سامان پانی میں ڈوب گیا ہے جس کے باعث کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

2001 میں حکومت مہاراشٹر نے ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا تھا۔ کروڑ روپے اس پر خرچ کئے گئے تھے لیکن حکومت کے اس سسٹم کی قلعي کھل گئی ہے ۔ بی ایم سی ، فائر بریگیڈ، پولیس، کوئی بھی ادارہ لوگوں کو راحت نہیں پہنچا سکا۔ جگہ جگہ ناکابندی ہونے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ نہيں ہو سکا ۔ بی ایم سی نالوں کی صفائی اور کچرا اٹھانے پر سالانہ 300 کروڑ رپے خرچ کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد