ممبئی: عمارت زمیں بوس، 6 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں ایک عمارت گرنے سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ یہ تین منزلہ عمارت اتوار کو رات گئے گری اور علاقے میں امدادی کاروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر وی بی بوبادے نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں میں سے چار افراد کو ابتدائی طبّی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ممبئی کےگوکل داس تیج پال ہسپتال کے سربراہ ایچ ایس جادو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ہسپتال میں چھ لاشیں لائی گئی ہیں اور تمام زخمیوں کی پسلیاں اور ٹانگیں ٹوٹی ہیں‘۔ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ولاس راؤ دیش مکھ نے ممبر پارلیمنٹ مرلی دیورا اور سوشل ویلفر منسٹر چندر کانت ہنڈورے کے ساتھ منہدم عمارت کا دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ آئندہ سات دنوں کے اندر ممبئی کی تمام خستہ حال عمارتوں سے مکینوں کو جبراً نکال دیا جائےگا تا کہ اس طرح لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی نہ پڑیں۔ رسّی والا بلڈنگ ممبئی کی اُن 108 خستہ حال عمارتوں میں شامل تھی جنہیں حکومت نے ’خطرناک‘ قرار دے دیا تھا۔ان کے مکینوں کو بھی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عمارت خالی کرنے کا نوٹس بھی دیا گیا تھا لیکن مکینوں نے عمارت خالی نہیں کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی ممبئی میں واقع یہ عمارت ساٹھ برس پرانی تھی اور اس کی حالت خستہ تھی۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس عمارت میں تین خاندان رہائش پذیر تھے۔ یہ گزشتہ دس دنوں کے دوران ممبئی میں گرنے والی تیسری عمارت ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی ممبئی کے وسط میں واقع ایک عمارت گرنے سے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس واقعے میں بیس لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس عمارت کے علاوہ ممبئی کے تاردیو علاقے میں بھی ایک عمارت زمیں بوس ہو گئی تھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس عمارت کے مکینوں نے اسے میونسپلٹی کی جانب سے خستہ قرار دیے جانے کے بعد خالی کر دیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ممبئی میں انیس ہزار کے قریب ایسی بلند عمارتیں ہیں جو خستہ حالت میں ہیں۔ بی ایم سی نے اپنی فہرست میں 108 عمارتوں کو خستہ حال قرار دیا ہے جس میں سے 64 عمارتوں کی مرمت کی ذمہ داری بی ایم سی پر عائد ہوتی ہے جبکہ 42 عمارتوں کی مرمت کا کام مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذمہ ہے۔ ممبئی جو سالانہ 55 سے 60 ہزار کروڑ روپے مرکز کو ادا کرتا ہے اُس کے مکینوں کو اس طرح اپنی جانیں گنوانی پڑتی ہیں۔ 1970 سے اب تک 2627 عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں634 جانیں تلف ہوئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||