ممبئی: وبائی امراض سےسّتر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی ریاست ممبئی کے مغربی حصے میں گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اب تک ستر سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سے زائد افراد تیز بخار اور ہیضے کا شکار ہیں۔ شہرمیں متعدد افراد لیپٹوسپائرسس نامی بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ بیماری بارشوں کے نتیجے میں شہر کے متعدد علاقوں میں ابھی تک کھڑے رہنے والے پانی میں چوہوں کے جسموں کی غلاظت کے شامل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے اس بیماری پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر اس کے کسی وباء کے طور پر پھیلاؤ کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ تین سو سے زائد طبی ٹیمیں مہاراشٹر کے گردوپیش میں وبائی امراض کا شکار ہونے والے لوگوں کو طبی امداد پہچانے میں مصروف ہیں۔ ممبئی کے ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں جہاں اب کسی مریض کو لٹانے کے لیے بستر بھی خالی نہیں رہے ہیں اور مریض جا بجا ہسپتال کے فرش پر لیٹے نظر آتے ہیں۔
سیلاب کا شکار ہونے والے کئی علاقوں کے شہریوں کی بلدیاتی اہلکاروں سے حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ اس بارے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔ بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ شانتی گاؤں میں رہنے والوں کے گھروں میں گٹر کا پانی داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتوں مہاراشٹر میں بارشوں نے تقریبا ایک ہزار افراد کی جان لی تھی جبکہ دو ملین سے زیادہ افراد ممبئی میں بارش اور اس کے بعد کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||