زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کےشہر ممبئی کی زندگی دس روز تک جاری رہنے والی ریکارڈ بارشوں کے بعد اپنے رنگ میں لوٹ آئی ہے۔ اسکول کھل گئے ہیں اور دفتروں میں بھی کام کا آغاز ہو گیا ہے ۔ ریل اور فضائی راستے بھی دوبارہ کھول دئیےگئے ہیں۔ لیکن ممبئی کے مفاضات میں واقع ساٹھ ہزار گاؤں میں رہنے والے عارضی طور پر قائم کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے گھر ابھی تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ان بارشوں نے تقریباً ایک ہزار افراد کی جانیں لی ہیں۔ مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی میں بیس ملین لوگ اس طوفانی بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں اور ان بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ تیس بلین ڈالر (ایک سو پچاس بلین روپے) لگایا گیا ہے۔ ایک ہفتے کے تعطل کے بعد بدھ کو اسکولوں، کالجوں اور دفاتر کے کھل جانے سے ممبئی کے ریل سٹیشنوں پر ہزاروں مسافر اپنی اپنی منزلوں کی جانب جانے کو کھڑے نظر آئے۔ ممبئی کی میو نسپل کمشنر جونی جوزف کا کہنا ہے کہ ان بارشوں کے بعد پھوٹ پڑنے والے امراض کے حوالے سے حکام کوئی چانس لینے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک سو سینتالیس طبی ٹیمیں کسی بھی وبا کے پھوٹ پڑنے سے پہلے حفاظتی تدابیر کےطور پر چوبیس گھنٹے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین سو سے زائد ٹرک اور بلڈوزر بھی گلیوں اور سڑکوں سے پندرہ ہزار ٹن غلاظت کو ہٹانے کے لیے مصروف کار ہیں جو شہری ہر روز سڑکوں پر پھینک رہے ہیں۔ یہ گندگی عام طور پر پھینکی جانے والی گندگی سے تین گنا زائد ہے۔ مہارشٹرا کے دوسرے حصوں میں صورت حال انتہائی بدتر ہے جہاں ریلوں کی آمدورفت معطل ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔ امدادی کام کر نے والے ممبئی کے جنوب میں واقع ضلع رائےگڑھ سے ابھی تک لاشیں اٹھانےمیں مصروف ہیں۔ اس ضلع کے سینئر ایڈمنسٹریٹر سنجے یادیو کا کہنا ہے کہ بیس سے زائد دیہات تودہ گرنے کے ڈر سے خالی کروالیے گئے تھے۔ تقریبا دوسو سے زائد میڈیکل کی ٹیمیں مہاراشٹر کے آس پاس واقع متاثرہ دیہاتوں اور قصبوں میں طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ممبئی سے روانہ ہو چکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||