BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 July, 2005, 21:54 GMT 02:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی آفات کے گھيرے میں

ممبئی
مبئی کے لوگ بارشوں سے مانوس ہیں لیکن اتنی بارش کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا
شدید بارشں سے تباہی کے بعد صنعتی شہرممبئی کی زندگی اب آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہے۔ لیکن بارش اور افواہوں سے بھگدڑ میں جہاں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں وبائی امراض کا خوف بھی منڈلا رہا ہے۔

امدادی کام جاری ہیں لیکن خبروں کے مطابق ابھی بھی کچھ دوردراز علاقوں تک امدادی کاروائیاں نہیں شروع ہو سکی ہیں۔ اس دوران مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہوچکی ہے۔

بارش کے قہر سےپوری ریاست مہاراشٹر متاثر ہوئی ہے۔ لیکن ممبئی میں سنامی اور ایک ڈیم کے پھٹنے کی افواہوں سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے دو ہجڑوں اور دو بار گرلس سمیت تقریبا ایک درجن لوگوں کوگرفتار کیا ہے۔ پولیس نے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے ۔ ساحلی علاقوں میں سنامی کی افواہوں سے بھگدڑ میں بائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انتظامیہ بارش سے متاثرہ ٹیلی کمیونکیشن اور ٹرانسپورٹ سسٹم کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی علاقوں میں اسکول بھی کھل گئے ہیں ۔ لیکن دور دراز علاقوں میں امدادا کاموں ميں ابھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا چالیس گاؤں ابھی بھی باقی ریاست سے منقطع ہیں۔

متاثرہ لوگوں کو کھانہ پہونچانے کے لیے فضائی خدمات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ ملیریا، اسہال اور دیگر وبائی امراض کے لیے طّبی سہولیات فراہم کی جارہیں ۔ لیکن سیلاب اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ یہ تمام انتظامات نا کافی ہیں۔

ادھر ناندیڑ میں دریائے گوداوری خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ اسکے پاس بسنے والے ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔ ایسے کئی علاقے ہیں جہاں پانی کی زیادتی کے سبب لوگوں کو اونچے مقامات پر ٹھہرایاگیا ہے۔

ساحل سمندر سے متصل ممبئی میں عام طور پر بارش زیادہ ہوتی ہے لیکن اس برس اسکے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ پورا شہر پانی کی ذد میں ہے۔ بارش بند ہو چکی ہے لیکن آسمان میں چھائے کالے بادلوں سے لوگوں میں اب بھی تشویش ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ابھی مزید بارش کے آثار ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ وبائی امراض پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کی بہت سی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں جو لوگوں کو گھر گھر دوا پہنچا رہی ہیں۔ حکومت نے یونیسیف سے بھی مدد مانگی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد