ممبئی کی پہچان، ایرانی کیفے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسکا بن اور پانی کم چائے، تازہ ’ماوا کیک‘ کی خوشبو، میز پر لال اور سفید خانوں والے میز پوش اور سڑک پرٹریفک کا شور۔ یہ ہیں ایرانی کیفے جو کہ ممبئی شہر کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کھلی جگہوں پر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور ملتے جلتے ہیں۔ پچھلے سو سالوں سے یہ کیفے ممبئی کے بدلتے رنگ و روپ کے گواہ ہیں لیکن اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اب اندرونی مشکلات اور دوسرے ہوٹلوں کے ساتھ مقابلے کی وجہ سے یا تو یہ بدل رہے ہیں یا پھر بند ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر ایرانی ہوٹلوں کے ساتھ ان کے اپنی بیکری بھی ہوتی ہے جہاں وہ اپنی ڈبل روٹی، بسکٹ اور الگ قسم کے کیک تیار کرتے ہیں۔ ایرانی کیفے کے سب گاہکوں کا یہی کہنا ہے کہ یہاں کی چائے اور مسکا بن کا کوئی مقابل نہیں۔ جینت کمات جنوبی ممبئی کے ایک سو ایک سال پرانے ’کیانی کیفے‘ میں اس وقت سے آ رہے ہیں جب وہ سکول میں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بھلے ہی یہاں گرمی اور شوروغل ہے پھر بھی مجھے یہاں آنا پسند ہے۔ یہاں بالکل گھر جیسا ماحول ہے اور میں یہاں گھنٹوں بیٹھ سکتا ہوں۔ پچھلے بیس سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا اور کھانے کے دام بھی وہی ہیں‘۔
ونیتا بھی اپنے کالج کے زمانے سے یہاں آ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ کھانے کا جو ذائقہ یہاں ملتا ہے،وہ کہیں نہیں ملتا۔ مجھے یہاں آنا اچھا لگتا ہے‘۔ لذیذ کھانے اور سستے داموں کے باوجود کچھ ہی ایرانی ہوٹل بچے ہیں۔’ کیانی کیفے‘ کے مالک افلاطون شوکری کہتے ہیں کہ ’ اب ہمارے بچے کافی پڑھ لکھ گئے ہیں اور یہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ ساتھ ہی ان ہوٹلوں کے شراکت داروں میں جھگڑے کے بعد بھی کافی کیفے بند ہو گئے ہیں۔ چاہے گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرنی ہوں یا کسی منصوبے پر کام کرنا ہو، اخبار پڑھنا ہو یا اپنی نئی فلم کی کہانی لکھنی ہو یا پھر صرف گپ لگانی ہو ایرانی کیفے سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ افلاطون شوکری کا کہنا ہے کہ جب فلم بوبی ریلیز ہوئی تھی تو راج کپور ان کے کیفے میں بیٹھ کر لوگوں سے ان کی رائے معلوم کیا کرتے تھے۔ شوکری کہتے ہیں کہ ’ ششی کپور تو اب بھی یہاں آتے ہیں‘۔ ’ کیانی کیفے‘ کے سامنے ہی’بسنتی ہوٹل‘ کا بڑا سا بورڈ لگا ہے لیکن دکان کا شٹرگرا ہوا ہے۔اس طرف نظر پڑتے ہی افلاطون کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب ہم دونوں مل کر کیک کی سب سے بڑی دکانیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ یہاں دور دور سے کیک خریدنے آتے ۔ جسے ’بسنتی‘ کے کیک پسند نہیں آتے وہ ہماری دکان میں آ جاتے اور جو ہمارے ہاں سے مطمئن نہ ہوتے وہ وہاں چلے جاتے۔
انیسوں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں سینکڑوں ایرانی روزگار کی تلاش میں ممبئی آئے تھے۔ یہ لوگ زرتشت مذہب کے ماننے والے تھے اور ممبئی میں پہلے ہی پارسی رہائش پذیر تھے جو اس مذہب کے پیروکار تھے۔ باپ دادا سے سنی کہانیوں کو یاد کرتے ہوئے شوکری کہتے ہیں کہ ’ جب ایرانی ہندوستان آئے تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا،نہ گھر نہ پیسہ۔ وہ لوگ پارسیوں کے گھروں میں کام کر کے گزارہ کرتے اور شام کو مل بیٹھتے، ادھر اُدھر کی باتیں کرتے، ایران کی سیاست کی باتیں کرتے۔ ایسی ہی ایک شام جب ان افراد کو ایک ایرانی نے چائے پلائی تو اس معاوضہ بھی لیا۔ بس پھر کیا تھا سب کو یہی خیال آیا کہ کیوں نہ چائے بیچ کر پیسہ کمایا جائے‘۔ ان ایرانی ہوٹلوں نےممبئی کی ثقافت میں ایک اور اہم کردار بھی ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ ان ہوٹلوں نے مذہب اور ذات کی پروا کیے بنا ہر کسی کو اپنے دھارے میں شامل کیا اور یوں وہ ممبئی کو ایک کاسموپولیٹن شہر بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔
سماجی علوم کے ماہر راہول شریواستو کا کہنا ہے کہ’ آج بھی ایرانی ہوٹلوں میں آپ کو کالج کے طالبعلم، سوٹ میں ملبوس افسران اور ایک غریب مزدور ایک ہی وقت میں ایک ساتھ چائے پیتے نظر آئیں گے۔ کھلی جگہ پر قائم یہ کیفے لوگوں کے ذہن کھولنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں‘۔ شاردھا دیوی کا کہنا ہے کہ یہ کیفے بھارتی ریلوے کے مانند ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ جس طرح ریلوے نے مذہب اور ذات کے بندھنوں کو توڑ دیا اور اس عوامی ٹرانسپورٹ میں یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کے پاس بیٹھا آدمی کون ہے اسی طرح جب ایرانی کیفے مقبول ہوئے تو انہوں نے بھی ان دوریوں کو ختم کیا۔‘ دیوی کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں ان ہوٹلوں میں الگ الگ مذہب کے افراد کے لیے الگ الگ رنگ کے کپ ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان ایرانی ہوٹلوں کی مقبولیت بڑھی اور فاصلے کم ہوتے گئے۔ دھیرے دھیرے اور بھی کیفے کھلے اور پھرغیرملکی کمپنیاں میدان میں آ گئیں۔ نوجوان ان جگہوں پر جانا زیادہ پسند کرنے لگے اور ایرانی کیفے بدل گئے۔ انہوں نے اپنا حلیہ بدل ڈالا، جدید بن گئے اور شراب بیچنے لگے۔ اور جب بدلے نہیں انہوں نے اپنے مینو میں چینی کھانوں اور مشروبات جیسی اشیاء کا اضافہ کر لیا۔ شوکری کا کہنا ہے کہ’ نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہمیں نئی چیزوں کا اضافہ کرنا پڑا‘۔ قصہ مختصر یہ کہ اپنے دامن میں اتنی یادیں سمیٹے یہ ایرانی کیفے شہر کی تاریخ کا اہم حصہ نہیں بلکہ پہچان بن گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||