BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چائے والا لکشمن

چائے بیچنے والا متعدد کتابیں تحریر کر چکا ہے
چائے بیچنے والا متعدد کتابیں تحریر کر چکا ہے
دارالحکومت دلی میں ’ویشنو دیگمبر مارگ‘ کے سامنے فٹ پاتھ پر یوں تو کئی چائے والے بیٹھتے ہیں لیکن ان میں سے ایک لکشمن راؤ چائے والا انوکھی شخصیت کے مالک ہیں۔

ان کی زندگی قدیم داستانوں میں اس ہیرو کی مانند ہے جو منزل کی تلاش میں ہرمشکل سے ٹکراتا ہے اور بالآخر کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔

ایک دن ان کی تلاش میں اس سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ فٹ پاتھ پرٹاٹ بچھا ہے اور اس پر کاغذ کے کچھ ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔ ادھیڑ عمر کے ایک آدمی کی آنکھوں پر موٹا سا چشمہ ہے بورے کے بچھونے پر بیٹھا کچھ لکھنے میں منہمک ہے اور پاس ہی ایک ٹوٹا پھوٹا ریڈیو بج رہا ہے۔ قریب ہی ایک پرانی سی سائیکل کھڑی ہے اور ذرا سے فاصلے پر ایک اسٹوؤ پر چائے پک رہی ہے۔ ان کے بہت قریب پہنچنے پر آواز آئی ’صاحب چاۓ دوؤں کیا ؟؟؟؟؟‘۔ بات چیت کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوا۔

چائے بیچنے والے لکشمن راؤ ہندی کے ادیب ہیں جواب تک سو لہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ پہلے ناول پھر آپ بیتی، ڈرامااور پھر سیاست سبھی مضوعات پر انہوں نے لکھا ہے اور کئی کتابیں مقبول بھی ہوئی ہیں۔ لکشمن نے بتایا کہ ان کی نئی کتاب اسی ماہ آنے والی ہے جس کے پہلے ہی بہت سے آرڈر مل چکے ہے۔ سیاست کے موضوع پر یہ ان کی پہلی کتاب ہے۔ پیشے سے ادیب ہیں لیکن روزی روٹی کے لیۓ چائے کی دکان چلاتے ہیں۔

لکشمن ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد پیٹ بھرنے کے لیے محنت مزدوری شروع کر دی تھی۔ لیکن تعلیم میں ان کی دلچسپی نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا۔

اپنے سفر کے متعلق ان کا کہنا تھا ’ بچپن سے پریم چند اور مراٹھی ادیبوں کو پڑھنے کا شوق تھا کہ اچانک میرے گاؤں کا ایک دوست تالاب میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس سے قربت کے سبب مزدوری کرتے ہوئے بھی میں نے اس پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ تعلیم کا شوق تو تھا ہی اسے پورا کرنے کے لیے میں گھر سے بھاگا تو کئی شہروں میں پہنچا لیکن پناہ دلی میں ملی۔ ہوٹلوں میں پلیٹیں دھوئیں، بیرے کا کام کیا لیکن فٹ پاتھ پر رہتے ہوئے اسٹریٹ لائٹ میں پڑھنا ترک نہیں کیا۔ ایک وقت وہ آیا کہ میری خود کی بیڑی سگریٹ کی دکان ہوگئی اور دلی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری بھی مل گئی۔ اس حقیقت کو میں نے قلم بند کیا ’نئی دنیا کی نئی کہانی‘ کے نام سے۔ اپنے پیسوں سے اسے شائع کیا اور پھر یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

نئ دنیا کی نئی کہانی کے بعد انہوں نے تیسری کتاب ’ڈراما پردھان منتری‘ لکھی۔ یہ کتاب انہوں نے محترمہ اندراگاندھی کو پیش بھی کی تھی۔ 1992 میں ان کی بچپن میں لکھی کتاب جو ان کے دوست پر مبنی تھی ’رام داس‘ شائع کی۔ ان کا یہ ناول کافی مقبول ہوا ہے۔ اس کتاب کو ’ بھارتیہ انوواد پریشد‘ اور اندرپرستھا ساہتیہ بھارتی‘ نے انعام سے بھی نوازا ہے۔ یہی کتاب سب سے زیادہ فروخت ہوئی ہے۔ کہانی کے اتار چڑھاؤ اور سلیس زبان کی حیثیت سے یہ ان کی بہترین تخلیق ہے۔ ایک دوسرے ناول ’نرمدا‘ کو ادبی طبقے میں کافی سراہا گیا ہے۔

News image

لکشمن کی مادری زبان مراٹھی ہے۔ لیکن لکھتے ہندی میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی مصیبتیں کم نہ تھیں لیکن اس کی وجہ سے انہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم لکشمن کہتے ہیں کہ انہیں کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ صرف تمنا یہ ہے کہ ان کی کتابیں اسکول کے نصاب میں شامل کرلی جائیں تو انہیں سکون ملے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت کم ہے کوئی بات نہیں لیکن ممکن ہے کہ آگے چل کر اس کا فائدہ انہیں ملے۔

لکشمن کا کہنا تھا ’ 1999 میں میری دکان کو انتظامیہ نے منہدم کردیا تھا تب سے میں فٹ پاتھ پر چائے بیچتا ہوں۔ بہت سے لوگوں کو تعجب ہوتا ہے کہ کسی نے میری مدد کیوں نہیں کی؟ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔ گھر میں میرے دو بچے اور ایک بیوی ہے جن کاخرچ چاۓ کی دکان سے چلتا ہے۔ لیکن میری منزل ایک اچھا ادیب بننا ہے اور اس کی طرف میرا سفر کامیابی سے جاری ہے۔‘

کالج اور اسکول کے طلباء کو اب لکشمن راؤ کی زندگی کے بارے میں درس دیا جاتا ہے۔ تعلیمی میدان میں جدو جہد اور ان کی سادہ زندگی سبھی کے لیے ایک مثال ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ادبی میدان میں وہ اعلی مقام حاصل کریں اور لوگ ان کی زندگي سے سبق حاصل کریں کہ تعلیم جیسے گوہر کواگر پانے کی تمنا ہو تو یہ مشکل نہیں ہے۔

مختلف انعامی رقمیں انہوں نے اپنی کتابیں شائع کرنے میں صرف کی ہیں اور میڈیا کی تشہیر کے سبب ان کی کتابیں بکنے بھی لگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سب کچھ اپنی محنت سے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آخری سانسوں تک وہ اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ لکشمن کا کہنا تھا کہ ان کے لیے‎ سب سے بڑا انعام یہ ہوگا کہ ان کی تحریر کے اثرات پڑھنے والوں کے دل پر بیٹھ جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد